رسول اللہ ﷺ کے والد غزہ تشریف لائے، پردادا ھاشم بن عبد مناف کا مزار بھی یہیں موجود

غزہ کا معنیٰ ’’ ناقابل تسخیر‘‘ ہے، 1355 میں مصر کے شہر صالحیہ سے نکل کر ابن بطوطہ نے غزہ کا رُخ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ کو کنعانیوں نے 3500 سال قبل تعمیر کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اسے ’’ھزاتی‘‘ کا نام دیا تھا۔ ’’مرکز قومی معلومات فلسطین‘‘ کی رپورٹ کے مطابق فرعونوں نے اس علاقے کا نام ’’غزاتو‘‘ رکھا۔ پھر اشوریوں اور یونانیوں کے دور میں اس کا نام ’’ ازاتی‘‘ ہوگیا۔ اس کے بعد عبرانیوں نے اس شہر کو ’’ فازا‘‘ کہنا شروع کردیا۔ عبرانیوں نے اسے بدل کر ’’ عزہ‘‘ کردیا اور عربوں کا دور آیا تو اس کا نام ’’ غزہ‘‘ ہوگیا۔

غزہ کا معنی کیا ہے؟۔ اس حوالے سے جس معنی کو ترجیح دی گئی ہے وہ ’’ ناقابل تسخیر‘‘ ہے۔ غزہ شہر اپنے نام میں ناقابل تسخیر کا معنی لیے ہوئے ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے والد گرامی تشریف لائے تھے۔ یہ وہ مقام بھی ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پرداد ہاشم بن عبد مناف کو سپرد خاک کیا گیا تھا۔

72
72

جس سال 150 ھجری یا767 عیسوی میں امام ابو حنیفہ ؒ کی وفات ہوئی ، اسی سال امام شافعی شہر غزہ میں پیدا ہوئے۔ امام شافعی نے غزہ سے 25 کلومیٹر دور عسقلان میں بچپن کے ابتدائی دو سال گزارے۔ اس کے بعد والدہ کے ساتھ مکہ ہجرت کر گئے۔ امام شافعی سے منسوب ہے کہ انہوں نے غزہ کی محبت میں دو شعر بھی کہے تھے۔

وإني لمشتاق إلى أرض غـزة ... وإن خانني بعد التـفـرّق كتماني

سقـى اللـه أرضاً لـو ظفرت بتربـهـا... كحلتُ به مـن شدة الشوق أجفانـي

مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بھی 1355 میں شمالی مصر کے شہر صالحیہ سے نکلنے کے بعد غزہ کا رُخ کیا اور کئی دن غزہ میں قیام کیا تھا۔ ابن بطوطہ نے لکھا "ہم پیدل چلتے ہوئے غزہ شہر تک پہنچے جو مصر کے ساتھ لیونٹ میں پہلا مقام ہے۔ اس کا قطر چوڑا ہے۔ اس میں بہت سی خوبصورت عمارتیں، بازار اور مساجد ہیں۔ اس میں حسن مسجد ہے۔ یہ وہ مسجد ہے جس میں اب نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے۔ اس مسجد کو امیر معظم جاولی نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ مسجد بڑی خوبصورتی سے بنائی گئی ہے۔ اس کا منبر سفید سنگ مرمر سے بنا ہوا ہے۔

ابن بطوطہ نے اپنی مشہور کتاب "تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار" میں اس سفر کی دیگر تفصیلات بھی بیان کی ہے۔

وہ عرب جن سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے وقت غزہ فتح کیا تھا، ان کا اس شہر سے اسلام سے پہلے اور بعد میں گہرا تعلق تھا۔ یہ عرب اپنی تجارت اور سفر کے دوران یہاں آتے تھے۔ غزہ تجارتی راستوں کا ایک گیٹ وے تھا۔ قرآن کریم کی سورت قریش میں مذکور دو مشہور سفروں میں سے ایک سفر کی منزل غزہ ہی تھا۔ قریش کے تاجر سردیوں میں یمن اور گرمیوں میں غزہ اور مضافات کا سفر کرتے تھے۔ قرآن کریم میں سورۃ قریش میں انہیں دو سفروں کا ذکر ہے۔

ہاشم بن عبد مناف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا ہیں اور جن سے خاندان بنو ہاشم کا آغاز ہوتا ہے کا انتقال غزہ کی جانب موسم گرما کے سفروں میں سے ایک کے دوران ہوگیا تھا۔ انہیں غزہ میں دفن کیا گیا اور ان کا مزار اب بھی "سید ہاشم مسجد" میں موجود ہے۔ اس مسجد کو مملوکوں نے شہر کے "الدرج" محلے میں تعمیر کیا تھا۔ 1850 میں عثمانی سلطان عبدالحمید نے اس کی تزئین و آرائش کی تھی۔ اس لیے اس شہر کو کبھی کبھی "غزہ ہاشم" یعنی ’’ہاشم کا غزہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی کتاب لکھنے والے مصنف ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ ہاشم بن عبد مناف کا اصل نام عمرو تھا۔ عمرو کا نام ھاشم اس لیے رکھا گیا تھا کہ وہ مکہ مکرمہ میں قحط کے زمانے میں اپنے لوگوں کے لیے دلیہ بنانے کے لیے روٹی توڑتے تھے۔ ’’ھشم‘‘ کا معنی توڑنا ہے اور ’’ھاشم‘‘ کا معنی توڑنے والا ہے۔ یہی بات شاعر ’’ مطرود بن کعب الخزامی‘‘ نے اپنے اشعار میں بتائی ہے۔

عمرو الذي هشم الثريد لقومه... قـوم بمكـة مسنتين عجــــاف

سنت إليـه الرحلتــان كلاهمـا... سفر الشتاء ورحلة الأصياف

غزہ کی قدیم تاریخ میں ہمیں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب جب 25 سال کے تھے تو قریش کے ایک قافلے کے ساتھ غزہ گئے تھے۔ یہ قافلہ شام اور فلسطین گیا تھا۔ قافلہ واپسی پر یثرب شہر سے گزرا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد بیمار ہوگئے۔ اس وقت عبداللہ بن عبد المطلب یثرب میں اپنے ماموؤں کے قبیلے بنو عدی بن النجار کے پاس رہنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ بنو عدی کے ہاں ایک ماہ تک مقیم رہے۔ اس وقت ان کی اہلیہ آمنہ بنت وھب دوسرے ماہ کے حمل سے تھیں اور مکہ مکرمہ میں ان کی واپسی کا انتظار کر رہی تھیں۔

حضرت عبد اللہ بن عبد المطلب کے ساتھیوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ جب وہ مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے ان سے اپنے بیٹے عبداللہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہم نے بیماری کی وجہ سے انہیں ان کے ماموں کے پاس چھوڑ دیا ہے ۔ عبد المطلب نے اپنے سب سے بڑے بیٹے حارث کو یثرب (مدینہ منورہ) روانہ کیا۔ حارث مدینہ منورہ پہنچے تو انہیں پتہ چلا کہ عبد اللہ بن عبد المطلب کی وفات ہوگئی ہے اور ان کی تدفین بھی وہیں ہوگئی ہے۔ اس کے چند ماہ بعد حضرت آمنہ بنت وھب کے ہاں سید المرسلین، خاتم النبین اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں