سعودی سیاحت کے شعبہ میں ماحولیاتی اثرات کم کرنے میں اہم پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیاحتی شعبہ کے ماحولیاتی اثرات کے ایک نئے جائزہ سے پتہ لگا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ دس سال میں مضرصحت گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

سیاحت کے ماحولیاتی اثرات کی جانچ پر مشتمل ایک تازہ رپورٹ کے اس امید افزا جائزے سے سیاحتی شعبہ پر یقیناَمثبت اثرات مرتب ہونگے جس میں مملکت 800 بلین ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

ان کوششوں کے تناظر میں کہ سعودی عرب سیاحوں کو راغب کرنے اور نئے منصوبوں پر عمل پیرا ہوکر تیل پر منحصر اپنی معیشت کو متنوع بنانا چاہتا ہے، ورلڈ ٹریول اینڈ ٹوورازم کائونسل کی سی ای او جولیا سمپسن نے العربیہ کو بتایا کہ ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ یہ اقدامات بہتر طریقے سے کیسے اٹھائے جائیں اور انہیں پائیدار بنیاوں پر سرانجام دیا جائے۔

فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹوکے حوالے سے تقریبات کے موقع پر یہ رپورٹ سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب اور ڈبلیو ٹی ٹی سی کی جانب سے جاری کی گئی تھی جس میں 30 سالوں میں پہلی بار سیاحت اور ماحولیات کے حوالے سے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا۔

وزیر سیاحت کی چیف ایڈوائزر گلوریا گویرا نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے پائیدار بنیادوں پر اٹھائے گےان دور رس اہمیت کے حامل اقدامات مملکت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

سعودی عرب میں اسلام کے مقدس ترین مقامات واقع ہیں جس کے نتیجے میں یہاں مذہبی سیاحت پہلے ہی فروغ پا رہی ہے۔

گویرا نے کہا کہ سعودی عرب نے پچھلے پانچ سالوں میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے بہت زیادہ سرگرمی دکھائی ہے اور مملکت کا ہر ایک ادارہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ان کوششوں کو پائیداری بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

جیسا کہ سعودی عرب کی سیاحت کی صنعت وسعت پذیر ہے اور سیاح اس کی ثقافت اور دوسرے دلچسپی کے مراکز کی وجہ سے یہاں کھنچے چلے آتے ہیں، وزیر سیاحت الخطیب نے کہا کہ مملکت بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے پائیدار راستہ اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہے جو کہ نہ صرف اگلے 20 سالوں بلکہ اگلی صدی اور اس سے بھی آگے دینا ہر محیط ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں