اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا ناکامی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر تساحی ھنغبی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے اچانک کیے گئے حملے سے قبل ان کی انٹیلی جنس سروسز کو حملو ں کا اندازہ لگانے میں ”غلطیاں“ہوئی تھیں۔

اس سے قبل اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس اتھارٹی کے سربراہ احرون حالیوا نے بھی اعلان کیا تھا کہ ان کے زیر کمان انٹیلی جنس کی ایک بڑی ناکامی سامنے آئی ہے، جو جنگ چھڑنے کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

حالیوا کا مزید کہنا تھا کہ میں شروع سے ہی اس ناکامی کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں۔‘‘

تکلیف دہ حملہ

14 اکتوبر کو ایک پریس بریفنگ میں حماس سے حملے کی توقع نہ رکھنے کے بارے میں اپنے بیانات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حالیوا کا کہنا تھا کہ یہ میری غلطی ہے اور یہ ہر اس شخص کی غلطیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو انٹیلی جنس کی جانچ کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ہمیں اس بات کا یقین تھا کہ حماس نے 2021 میں اسرائیل کے ساتھ آخری جنگ سے سبق سیکھا ہو گا۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیل غزہ سے ہونے والے حملے کو پسپا کرنے کے اپنے مشن میں ناکام رہا ہے، انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے ایک سخت دھچکا لگے گا، اب ہماری توجہ سخت ردعمل اور غزہ سے حماس کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔

ہزاروں ہلاکتیں

سات اکتوبر کو حماس نے ایک غیر معمولی حملہ کیا تھا، جس کے دوران اس کے جنگجوؤں نے سرحدی باڑ عبور کر کے اسرائیلی فوجی اڈوں میں گھس کر غزہ کی پٹی کے غلاف میں قائم سرحدی بستیوں پر حملہ کیا تھا، جس میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری اور زمینی کارروائیاں کیں، جس میں جمعہ کی شام سے تیزی آئی ہے، غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق اس کے نتیجے میں اب تک 8,796 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں، جن میں 3,648 بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں