غزہ کے ’جوہری آپشن‘ سے متعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پر سعودی عرب چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب نے غزہ کی پٹی پر ایٹم بم گرانے کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کے ایک وزیر کے انتہا پسندانہ بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے ریمارکس اسرائیلی حکومت کے ارکان میں انتہا پسندی اور بربریت کی سرایت کو ظاہر کرتے ہیں‘۔

وزارت خارجہ کا بیان میں کہنا تھا ’اسرائیلی وزیر کو فوری طور پر حکومت سے برطرف نہ کرنا اور محض رکنیت کی معطلی تمام انسانی، اخلاقی، مذہبی اور قانونی معیارات اور اقدار کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ہے‘۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیر برائے قومی ورثہ ایمچے ایلیاہو نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’غزہ پر نیوکلیئر بم گرانا بھی ایک آپشن ہے‘۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق قومی ورثہ کے وزیر کو تاحکم ثانی حکومتی اجلاسوں میں شرکت سے معطل کیا گیا ہے۔

وزیر کے انٹرویو کے فوراً بعد وزیر اعظم کے آفس نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا جس میں اس تبصرے کو ’حقیقت سے بعید‘ قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل غزہ میں سویلین کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر نے تنقید کے بعد ٹوئٹر (ایکس) پر وضاحت کی کہ انہوں نے نیوکلیئر بم استعمال کرنے کا بیان بطورہ استعارہ استعمال کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں