مشرق وسطیٰ

غزہ میں ہسپتال حماس کے لیے استعمال نہیں ہو رہے ہیں: انڈونیشین انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرا ئیلی بمباری کی زد میں پورا ایک ماہ رہنے والے غزہ شہر نے انڈونیشیا کے زیر اہتمام چلنے والے والے ہسپتال کے بارے میں اسرائیلی الزام کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال کے منتظمین نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حماس ہسپتال کو اپنے عزائم کے لیے استعمال نہیں کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے پیر کے روز انڈونیشیا کی ہسپتال چلانے والی انتظامیہ کے بارے میں الزام لگایا تھا کہ حماس میزائل لانچ کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے الزام لگایا تھا کہ حماس غزہ کے ہسپتال جن میں الشفاء ہسپتال شیخ حماد ہسپتال اور انڈونیشیا کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے ہسپتال کو اسرائیل کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

اس الزام کو بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے ایم ای آر سی کے چئیرمین ساربینی عبد الرحمن نے کہا ہے کہ"یہ ہسپتال ہم نے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے بنایا تھا اور غزہ کے رہنے والوں کی ضروریات کے تحت بنایا تھا ۔"

انہوں نےانڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے کہ "اسرائیل کا یہ الزام ایک پیشگی علامت ہے تاکہ وہ غزہ میں موجود انڈونیشیا کے ہسپتال پر حملہ کر سکے۔"

اسرائیل کے فوجی ترجمان نے اتوار کو کہا ہے کہ "ایک سیٹلائٹ تصویر میں انڈونیشیا ہسپتال والی سڑک سے ایک راکٹ لانچ ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔"

ایم ای آر سی کے ایک اور نمائندے نے یہ کہا ہے کہ"ہسپتال کے نیچے کوئی سرنگ نہیں ہے اور اس کے فیول ٹینک اور پاور جنڑیٹڑز کو حفاظتی وجوہات کی بنیا پر قریبی عمارت میں رکھا گیا ہے ۔"

دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور غزہ کے لیے امداد بھی بھیجی ہے۔ حماس کے زیر اثر کام کرنے والے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے بارڈر پار حملہ شروع کرنے کے بعد سے جنگ میں دس ہزار سے زاید فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں