اسرائیلی بمباری نے ایک اور صحافی کی جان لے لی، 31 دنوں میں 37 صحافی شہید

شہید ہونے والوں میں 32 فلسطینی صحافی تھے جو مختلف اداروں سے وابستہ تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کی صحافیوں کو تاک کر بمباری کرنے کی روش جاری ہے، جس کے نتیجے میں غزہ ایک اور فلسطینی صحافی شہید ہو گیا ہے۔ بمباری کے نتیجے میں منگل کے روز ایک صحافی شہید جبکہ اس کے ساتھ ایک اور زخمی ہو گیا ہے۔

اس ایک ماہ سے آگے جاتی جنگ اور بمباری میں اب تک تقریباً ایک درجن صحافی اسرائیلی فوج نے شہید کر دیے ہیں۔ پچھلے ہفتے صحافیوں نے خصوصی ہیلمٹ اور کوریج کے دوران خصوصی جیکٹ پہننے سے احتجاجاً انکار کر دیا تھا کہ اس وجہ سے صحافتی شناخت کی اسرائیلی فوج کو کوئی پروا نہیں ہوتی بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان صحافتی لباس کی نشانیوں کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو صحافیوں کو نشانہ بنانا زیادہ آسان ہو جاتا ہو۔

منگل کے اسرائیلی بمباری کی زد میں آ کر شہید ہونے والے صحافی کانام محمد ابو حسیرہ ہے۔ ابو حسیرہ کے علاوہ ان کے بیوی بچوں اور بھائیوں سمیت مجموعی طور پر ان کے خاندان کے اب تک 42 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ خاندان کے سارے لوگ حالیہ بمباری مکی زد میں آئے۔

ابو حسیرہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات جگہ بدلی مگر منگل کو ان کی لاش ہی ملی۔ جمعرات کے روز بھی فلسطینی ریاستی ٹی وی نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ایک صحافی اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران شہید ہو گیا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 32 دنوں کے دوران 37 صحافی شہید ہوئے ہیں جن میں سے 32 صحافی فلسطینی تھے جو مختلف مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں