’’مجھے اپنی فکر نہیں تھی‘‘ معمر فلسطینی خاتون بمباری میں بھی جانوروں کو بچاتی رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں نقل مکانی پر مجبور کی گئی بزرگ خاتون فخر تاج نے اسرائیلی بمباری کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے جانوروں کے ساتھ رہنے کا انتخاب کرکے حیران کردیا۔ اپنے پرندوں اور کچھوؤں کو بچانے کے لیے بمباری کی پروا نہ کرنے والی فخر تاج نے بتایا کہ میں نے اپنے چھوٹے جانوروں کو بچانے کے لیے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

75 سالہ حاجن فخر تاج نے ایک خیمے کی زمین میں اپنے پرندوں اور کچھوؤں کے لیے کچھ پودے لگائے اور خان یونس میں آسٹرین کوارٹر میں واقع اپنے گھر سے بے گھر ہونے کے بعد ناصر میڈیکل کمپلیکس میں رہائش پذیر ہوئیں۔ پودے اس لیے لگائے کہ یہ جانور ان پودوں سے خوراک حاصل کر سکیں۔

1980 کی دہائی میں لبنان سے تیونس اور پھر غزہ کی طرف ایک چھوٹی سی ہجرت کا تجربہ کرنے والی فخر تاج نے کہا آپ انہیں خیمے میں میرے ساتھ دیکھتے ہیں۔ میں نے پھر حسد کے خوف سے انہیں گلی سے باہر نکال دیا۔ مجھے خوف تھا کہ ان کا کھانا نہ بند ہوجائے تو میں نے ان کے لیے پودے لگائے تاکہ وہ سبزی کھا سکیں۔

حاجن تاج فخر نے کہا وہ جانوروں کے ساتھ اپنے رشتے کو جنگ اور امن، بھوک اور سیری میں بھی برقرار رہنے والا قرار دیتی ہیں۔

یاد رہے حاجن فخر تاج کے 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اس لیے معمر خاتون نے اپنی دلچسپی تین پرندوں اور تین کچھوؤں میں لگا لی۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری کو 31 دن ہوگئے ہیں۔ خاتون کے گھر سے نکلنے کے بعد بھی یہ جانور معمر خاتون کو زندگی گزارنے میں مدد دے رہے ہیں۔

معمر خاتون فخر تاج نے کہا جب آسٹرین کوارٹرز پر بمباری کی گئی، انتباہی گولے آکر گرے تو ہم بھاگے اور آدھے راستے پر آ گئے۔ اس وقت مجھے پرندے یاد آئے تو میں انہیں بمباری کی زد سے بچانے کے لیے واپس چلی گئی۔ اس وقت مجھے کسی چیز کا خوف نہیں تھا۔ مجھے اپنی جان جانے کا خوف نہیں تھا بلکہ پرندوں کی موت کا ڈر تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں