’مظاہرین نے اسرائیل کے لیے ہتھیار لے جانے والے امریکی فوجی جہاز کو روک لیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں مظاہرین نے مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے ہتھیار لے جانے والے امریکی فوجی جہاز کو روک دیا ہے۔

سینکڑوں فلسطینی حامی مظاہرین نے واشنگٹن میں ٹاکوما [Tacoma] کی بندرگاہ پر Cape Orlando نامی فوجی سپلائی جہاز کو روکنے کے لیے ریلی نکالی جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ امریکا سے اسرائیل کے لیے ہتھیار لے جائے گا۔

ریلی میں شریک مظاہرین کے نمانئدوں نے بتایا: ’ہم غزہ جنگ بندی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کا قتل ہونا بند ہو جائے۔ ہم امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کو امریکی فنڈنگ کے بارے میں تحقیقات بھی چاہتے ہیں۔‘

ٹاکوما میں کیپ اور لینڈو کہلانے والے جہاز کو ہر عمر کے مظاہرین کا سامنا کرنا پڑا جو رین کوٹ، پفر جیکٹس اوڑھے اور چھتریاں تانے احتجاج کر رہے تھے، مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ بینرز پر ‘غزہ کا دفاع کریں’، ‘فلسطین کو آزاد کرو’، ‘ایک اور نکل نہیں، ایک اور پیسہ نہیں، اسرائیل کے جرائم کے لیے مزید رقم نہیں’ جیسے نعرے درج تھے۔

دوسری طرف پینٹاگون کے ترجمان جیف جورگنسن نے کہا ہے کہ یہ جہاز درحقیقت ‘امریکی فوجی کارگو کی نقل و حرکت’ کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک امریکی دفاعی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اتوار کو مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی آبدوز ایک گائیڈڈ میزائل آبدوز ہے جو جوہری ہتھیار فائر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

پیر کو پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹ رائڈر نے کہا کہ اوہائیو کلاس آبدوز امریکی ‘خطے میں ڈیٹرنس کی کوششوں’ کے لیے ‘مزید مدد’ فراہم کرے گی۔

امریکی محکمہ دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی ہے جس میں آبدوز کو سوئز نہر سے ہوتے ہوئے بحیرہ احمر میں جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

امریکا کے صدر جوبائیڈن نے حال ہی میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو 14 بلین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کرے، یہ 3.8 بلین ڈالر کے علاوہ ہے جو امریکا نے پہلے ہی 2023 کے لیے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھ

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں