"میں نے بچوں کو ذبح ہوتے نہیں دیکھا" کہنا عرب خاتون رکن کنیسٹ کو مہنگا پڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی کنیسٹ کی رکن ایمان خطیب یاسین نے کہا کہ ’’میں نے بچوں کو ذبح ہوتے یا عورتوں کی عصمت دری ہوتے نہیں دیکھا‘‘ ۔ کنیسٹ میں یہ جملہ ادا کرنا ایمان خطیب یاسین کو مہنگا پڑ گیا۔ صرف یہ کہنا ہی ان کے لیے جہنم کے دروازے کھولنے کے لیے کافی تھا۔

لیکود پارٹی کے کنیسٹ کے دو دیگر ارکان نے ریاست کے خلاف ایک دہشت گرد تنظیم کی مسلح جدوجہد کی حمایت کے الزام میں ایمان خطیب کو ہٹانے کے لیے کام شروع کردیا۔ چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایمان خطیب کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے کے لیے کنیسٹ کے 70 ارکان کو قائل کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ اس مہم میں حزب اختلاف کے ارکان کنیسٹ کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسرائیلی کنیسٹ
اسرائیلی کنیسٹ

نمائندوں ہنوک میلبٹسکی اور اشر شیکل نے اپنی مہم کی بنیاد کنیسٹ قانون کے سیکشن 37 اے پر رکھی۔ اس شق میں ریاست اسرائیل کے خلاف کسی دشمن ریاست یا دہشت گرد تنظیم کی مسلح جدوجہد کی حمایت کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

یہ کوششیں اس وقت سامنے آئیں جب ایمان خطیب نے کنیسٹ چینل کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کی طرف سے دکھائے گئے کلپس کے مطابق بچوں کو ذبح یا خواتین کی عصمت دری نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ شرمناک ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے ایسی ویڈیو نہیں دیکھی ہے۔ ایمان خطیب نے کہا ایک ویڈیو تھی جو نشر ہوئی تھی اور میں نے اسے نہیں دیکھا تھا لیکن میں نے اس کے بارے میں اپنے تین ساتھیوں سے سنا جنہوں نے اسے دیکھا اور مجھے اس کے بارے میں بتایا۔

ایمان خطیب نے کہا ایک مذہبی مسلم خاتون کے طور پر میں سمجھتی ہوں کہ جنگ کے حالات میں بھی ایسا کرنا اسلام کے اصولوں سے متصادم ہے۔

بعد ازاں یونائیٹڈ عرب لسٹ کے سربراہ منصور عباس نے ایمان خطیب یاسین سے بات کی اور ان کے بیانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔

یاد رہے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے پہلے دن سے متعدد اسرائیلی حکام نے یہ بات کی ہے کہ درجنوں بچوں کو ذبح کیا گیا اور یہاں تک کہ جلا دیا گیا۔ بعض اسرائیلی عہدیداروں نے فلسطینی جنگجوؤں کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کی باتیں بھی کیں۔ حماس نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں