فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی حملے میں کوئی چیز واضح طور پر غلط ہے: انتونیو گوتیریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بدھ کو کہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی اموات سے لگتا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ’کوئی چیز واضح طور پر غلط‘ ہے۔

انتونیو گوتیریس نے بدھ کو رائٹرز نیکسٹ کو بتایا کہ ’غزہ میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی موت سے معلوم پڑتا ہے کہ اسرائیل کے فوجی آپریشن میں کوئی چیز واضح طور پر غلط ہے۔‘

ادھر غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد سات اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہو گئی ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ شہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں۔ اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ 33 روز سے جاری اس جنگ کے باعث غزہ کے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین نامی این جی او نے بتایا کہ 1967 سے سات اکتوبر 2023 سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جتنے بچے شہید ہوئے، اس دوگنا زیادہ بچے ایک ماہ کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔

این جی او کے مطابق 1350 بچے ابھی بھی عمارات کے ملبے تلے موجود ہیں اور ان میں بیشتر ممکنہ طور پر شہید ہو چکے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث روزانہ سو سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں