برطانیہ میں ’’ ہنسانے والی گیس‘‘ پر پابندی لگا دی گئی

خلاف ورزی پر جرمانہ اور قید، نائٹریس آکسائیڈ خوشی، سکون اور حقیقت سے علیحدگی کے احساس کا باعث بنتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں نائٹرس آکسائیڈ جسے "لافنگ گیس" کے نام سے جانا جاتا ہے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پراسرار ہنسی برطانیہ میں مہنگی کردی گئی ہے۔ برطانیہ میں نائٹرس آکسائیڈ کے استعمال یا اس کو رکھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ نائٹرس آکسائیڈ کو پیدا کرنے، سپلائی کرنے اور فروخت کرنے والوں کو جرمانہ اور قید کی سزا دی جائے گی۔

نائٹریس آکسائیڈ ایک ایسا مادہ ہے جو خوشی، سکون اور حقیقت سے علیحدگی کے احساس کا باعث بنتا ہے۔ اس کا استعمال خاص طور پر نوجوانوں میں پھیل چکا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے معاشرے میں پریشان کن رویے پیدا ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔

پولیس کے وزیر کرس فلپ نے ایک بیان میں کہا کہ عوامی مقامات پر اس مادے کا استعمال طویل عرصے سے غیر سماجی رویے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورت حال کمیونٹیز کے لیے نقصان دہ ہے جسے ہم قبول نہیں کریں گے۔

اس نئی پابندی کے تحت لافنگ گیس کا غلط استعمال کرنے والوں کو جرمانے یا دو سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مادہ کی سمگلنگ پر قید کی سزا دوگنی کرکے زیادہ سے زیادہ 14 سال تک کردی گئی ہے۔

نائٹریس آکسائیڈ کے جائز مقاصد کے لیے استعمال کو پابندی سے مستثنی رکھا گیا ہے۔ ان جائز مقاصد میں صحت کی دیکھ بھال، دندان سازی اور دیگر صنعتوں میں اس کا استعمال شامل ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ اس وقت اسے استعمال کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنا ضروری نہیں ہے لیکن صارفین کو "قانونی ملکیت" ثابت کرنا ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں