’’ مجھے پسند نہیں آیا‘‘ ترک عہدیدار نے کھانا کھایا اور بل ادا کرنے سے انکار کردیا

ریسٹورنٹ کے مالک نے واقعے کی ویڈیو پوسٹ کردی، بڑی تعداد میں لوگوں میں غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے ایک علاقے کے گورنر نے اقدام نے ملک میں ھنگامہ برپا کردیا ہے۔ تنازع اس قدر بڑھا کہ ترکیہ کی وزارت داخلہ کو کارروائی پر مجبور ہونا پڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق ریاست ’’آرٹون‘‘ کے علاقے ’’یوسفلی‘‘ کے گورنر حاجی کریم میرال نے ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا جس میں میٹھا پکوان بھی شامل تھا اور بل ادا کرنے سے انکار کردیا۔ لنج کرنے کے بعد حاجی کریم میرال نے کہا کہ کھانے کی اشیا مجھے پسند نہیں آئیں لہذا میں ان کی قیمت ادا نہیں کروں گا۔

ریسٹورنٹ کے مالک نے اس بات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کردی کہ حاجی کریم میرال کھانا کھا رہے ہیں اور بعد میں بل ادا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ویڈیو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصہ کا اظہار شروع کردیا۔ ملک بھر میں بے چینی کا اظہار کیا گیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے یوسفلی ریجن کے گورنر پر اپنے اثر و رسوخ اور عہدے کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ خاص طور پر چونکہ ریسٹورنٹ کے مالک نے ان سے بل ادا کرنے کو کہا لیکن اس نے یہ بہانہ بنا کر بل ادا کرنے سے انکار کر دیا کہ اس نے میٹھے کے ساتھ جو کھانا کھایا تھا وہ چھا نہیں تھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے حاجی کریم میرال کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے کارروائی کی۔ وزارت داخلہ نے ایک انسپکٹر مقرر کردیا جو ریاست آرٹون کے گورنر حاجی کریم میرال کے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔

مقامی ویب سائٹ ’’ این ٹی وی‘‘ کے مطابق امکان ہے کہ یوسفلی علاقے کے گورنر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں