اسرائیلی مصنوعات وخدمات کے بائیکاٹ کیا جائے: انڈونیشیائی علما کا فتویٰ

علماء کے فورم 'ایم یو آئی' نے مدد گاروں سمیت اسرائیل کی حمایت حرام قرار دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا کے علمائے کرام نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اجتماعی فتویٰ جاری کیا ہے۔ فتوے میں کہا گیا ہے ایسی کمپنیاں جو اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں ان کی مصنوعات اور خدمات لینے کا بائیکاٹ کر کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے۔

انڈونیشیا کے علمائے کرام کے اس مشترکہ پلیٹ فارم کا نام 'ایم یو آئی' کی طرف سے فتوے میں مسلم ممالک میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت کریں اور اسرائیلی جارحیت جس کا فلسطینی شکار کے خلاف جدوجہد کی جائے۔

فتوے میں اسرائیل کی حمایت اور اس کے حامیوں کی مدد کرنے کو اسلامی قانون کی خاف ورزی اور حرام قرار دیا گیا ہے۔

'ایم یو آئی' کی کونسل کے سربراہ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ’ہر مسلمان سے مطالبہ کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو اسرائیل سے تعلق رکھنے والے اداروں کے توسط سے ٹرانزیکشن اور ان کی مصنوعات و خدمات سے اجتناب کریں۔ اسی طرح نو آبادیت اور صہیونیت کے حامیوں سے بھی گریز اختیار کریں۔'

ان کا کہنا تھا 'ہم ایسے فریق کی کس طرح حمایت نہیں کر سکتے ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف بر سر جنگ ہو، ہم ان کی اشیاء بھی کس طرح خرید اور استعمال کر سکتے ہیں جو فلسطینیوں کے قتل کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔'

انڈونیشیائی علما ئے کرام کا یہ فتویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کے حامی مغربی ممالک کی مصنوعات اور برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم جاری ہے۔

مشرق وسطیٰ کے مسلم تمام ممالک کے عوام کو غزہ میں فلسطینی بچوں کی ہزاروں کی تعداد میں کی جانے والی ہلاکتوں نے سخت تکلیف پہنچائی ہے اور وہ اس پر غیر معمولی غم وغصے میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں