انسٹاگرام پر غزہ جنگ، گم نام فلسطینیوں نے جنگ کا رخ موڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ پرجنگ کے اوزار اب صرف لڑائیوں تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ایسی ورچوئل جنگیں ہیں جن کے ہیرو اب نامعلوم سپاہی نہیں رہے بلکہ ان کے نام زیادہ مشہور ہو گئے ہیں۔

غزہ جنگ نہ صرف فلسطینیوں اور عربوں کے درمیان لڑائی کا مرکز ہے بلکہ یہ عرب دنیا اور اس سے باہر بھی بڑے پیمانے پر توجہ کا مرکز ہے۔ اس جنگ کی کوریج کرنے والوں کے فالورز میں راتوں رات لاکھوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گم نامی کے اندھیروں سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے ان گم نام ہیرز میں کئی فلسطینی مرد اور خواتین بھی شامل ہیں۔

غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی حملے کے دوران زندگی کی ہولناکیوں کے مناظر شیئر کرنا شروع کیے ہیں۔

یہ واقعات اور مناظر موبائل فون کو استعمال کرتے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ ان مناظر کی بڑی تعداد انسٹا گرام پر دیکھی جا سکتی ہے جہاں میدان جنگ کا منظر ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق چونکہ سرائیل زیادہ ترصحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ فلسطینی اپنے طور پر مناظر کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتے ہیں۔ ان مناظر میں اسرائیلی بمباری، خوراک اور پانی کی کمی، تباہی، موت اور خون ایسے مناظر ہیں جو لاکھوں فالورز کو متوجہ کرتے ہیں۔

معتز عزایزہ کی شہرت

7 اکتوبر کو جب معتز عزایزہ سوئے تو صبح کے چار بجے تھے۔ 24 سالہ نوجوان اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کے لیے ویڈیو ایڈٹ کرنے میں دیر تک کام کرتا رہا جہاں وہ پارٹ ٹائم پروڈیوسر کے طور پر کام کر رہا تھا۔

دو گھنٹے بعد وہ دھماکوں کی آواز سے بیدار ہوا تو وہ اپنے اوپر میزائلوں کا ایک بیراج دیکھنے کے لیے اپنے گھر کی چھت پر بھاگا۔

کوئی انتباہ نہیں تھا اور نہ ہی فائرنگ کا کوئی تبادلہ ہوا تھا جو عام طور پر ایک مکمل جنگ کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب وہ سویا تو اس وقت حماس نےجنگ شروع کردی تھی۔

حماس کے جنگجوؤں نے غزہ کو اسرائیل سے الگ کرنے والی رکاوٹیں توڑ دیں اور فوجیوں اور قریبی آبادیوں کے رہائشیوں پر حملہ کیا۔

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ تقریباً 240 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسرائیل میں تقریباً 1400 افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر عام شہری اور کچھ فوجی تھے۔

جواب میں اسرائیل نے حماس کے خلاف مکمل جنگ شروع کی۔ عزایز اور 20 لاکھ دیگر افراد غزہ میں بمباری میں پھنس گئے۔ یہ علاقہ کئی دہائیوں کے تنازعے کے بعد ایک پاؤڈر کیگ بن چکا ہے۔

چنانچہ عزایزہ جو پہلے ہی چار جنگوں کو دیکھ چکا اپنا کیمرہ پکڑ کر ایک افراتفری کی دنیا میں چلا گیا۔اس نے مسلح فلسطینی مردوں کو اسرائیلی فوجی جیپ میں تین قیدیوں کے ساتھ گزرتے دیکھا، جن میں سے دو فوجی وردی پہنے ہوئے تھے، اور ان کے سامنے رہائشی پریڈ کر رہے تھے۔

اس نے اس منظر کو فلمایا اور اس ویڈیو کو اپنے اس وقت کے 24,000 انسٹاگرام فالوورز پر اپ لوڈ کیا۔

معتز عزایزہ نے غزہ کی ایک یونیورسٹی سے انگریزی ترجمے میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے اور اسے ٹریول فوٹوگرافی کا شوق تھا۔

غزہ کی خوبصورتی اور ہولناکیوں کی تصویر کشی کرنے میں اپنے ہنر کو نمایاں کرنے کے بعد، جنگ نے انہیں سوشل میڈیا کے دور کے لیے جنگی نامہ نگار بنا دیا۔

اب ان کے انسٹاگرام پر 13 ملین فالوورز ہیں۔

آج عزایزہ نے اسرائیلی بمباری کے اثرات کو اس طرح سے دستاویز کیا ہے جو ان کی نسل کے لیے مخصوص ہے۔ خام فوٹیج کو سیلفی کے انداز میں فلمایا جاتا ہے، پھر انگریزی میں اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔

ہند الخضری فرنٹ لائن پر

جب ہند الخضری غزہ سٹی کے ایک ہسپتال میں زخمیوں اور ہلاک شدگان کی آمد کی اطلاع دینے کے لیے جنگ کے اوائل میں اپنے گھر سے نکلی تو اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ آخری بار ہوگا۔

جب وہ مشن پر تھیں اسرائیل نے شمالی غزہ سے مکینوں کو نکالنے کا حکم دیا اور اس کا خاندان جنوب کی طرف بھاگنے والے لاکھوں فلسطینیوں میں شامل ہو گیا۔

تاہم 28 سال کی عمر کی خُضری جنگ کی دستاویز کرنے کے لیے ٹھہری رہیں، لیکن اس کے پڑوس میں بمباری کے بعد وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکیں۔

ہند الخضری گذشتہ سولہ برسوں میں اسرائیل اور حماس کے درمیان پانچ میں سے چار جنگوں سے گزر چکی ہیں، لیکن اس بار وہ بے گھر ہوگئی ہیں۔

بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی خبروں سے تھک کر وہ روانی سے انگریزی میں رپورٹ کرتی ہے۔ اکثر حملوں کے مقام پر موجود چند رپورٹرز میں سے ایک ہے جو تباہی کے لامتناہی مناظر کی دستاویز کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں کوئی آگے یا پیچھے لائن نہیں ہے۔ "یہ سب فرنٹ لائن پر ہے"۔

نور حرازین

جنگ کے ایک ماہ بعد بھی نور حرازین ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکتی کہ 7 اکتوبر کو کیا ہوا تھا۔

ایک رات پہلے وہ بحیرہ روم کےساحل پر ایک ہوٹل میں دوستوں کی صحبت سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بعد میں اس نے اپنے جڑواں بچوں، سارہ اور بسام 5 کو ان کے ہوم ورک میں مدد کی اور انہیں سونے کے لیے گلے لگایا۔

اس نے اپنے شوہر اور جڑواں بچوں کے ساتھ جنوب کی طرف بھاگنے کا مشکل فیصلہ کیا تاہم اس کے والدین نے دوسرے نکبہ کے خوف سے سات لاکھ کے اس قافلے میں گھر چھوڑنے سے انکار کردیا۔

اس نے کہا کہ "سب سے بری چیز آپ کی عزت کو کھونا ہے، میں نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور انہیں کمبل اور تکیوں سے گاڑی میں دھکیل دیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا ہوگا۔"

وہ اب بھی جنگ کے بارے میں اپ ڈیٹس رپورٹنگ اور شائع کر رہی ہیں۔

غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور بستیوں پر اچانک حملہ کیا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,400 افراد ہلاک اور تقریباً 241 کو حراست میں لیا گیا۔

دریں اثناء اسرائیلی افواج نے محصور غزہ کی پٹی پر شدید فضائی حملے اور شدید بمباری شروع کررکھی ہے جس میں تقریباً 11,000 افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق غزہ کے اندر کم از کم 33 فلسطینی میڈیا پروفیشنلز مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں