برطانیہ کا یوگنڈا میں یہودیوں کے لیے ریاست بنانے کا منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تیرہ کالونیوں اور امریکی جنگ آزادی کے دوران اس کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے میں برطانیہ نے جنوبی کیرولینا، جارجیا اور میری لینڈ کے علاقوں میں بہت سے "غلاموں" کو آزاد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ امریکا کی آزادی کے ساتھ انگریزوں نے ان آزاد کردہ "غلاموں" کو کینیڈا کی سرزمین پر منتقل کر دیا، جو اس وقت برطانوی ولی عہد کی ملکیت تھیں۔

آزاد شدہ غلاموں کے بحران کو ختم کرنے کی امید میں، جن کی تعداد اس وقت دسیوں ہزار بتائی گئی تھی برطانیہ نے ایک منصوبہ اپنایا جس کے ذریعے اس نے ان غلاموں کو افریقی براعظم میں واپس کرنے کی کوشش کی۔

موجودہ سیرا لیون کے علاقوں میں انگریزوں نے 1787ء میں فری ٹاؤن شہر کی بنیاد رکھی اور آہستہ آہستہ آزاد کیے گئے غلاموں کو برطانوی زمینوں اور جائیدادوں کے ساتھ وہاں مستقل طور پر آباد کرنے کی امید میں وہاں منتقل کیا۔

بیسویں صدی کے دوران یہ برطانوی منصوبے دوبارہ منظر عام پر آگئے۔ یہودیوں کی آمد اور بڑھتے ہوئے سماجی مسائل کے پیش نظر برطانیہ نے یہودیوں کو منتقل کرنے اور انہیں مشرقی افریقہ میں موجودہ یوگنڈا کی سرزمین میں آباد کرنے کا منصوبہ بنایا۔

برطانوی آئیڈیا

مشرقی یورپی ممالک خاص طور پر روسی سلطنت میں یہودیوں کے خلاف تشدد میں اضافے کے ساتھ برطانیہ نے انیسویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران یہودیوں کی ایک بڑی آمد دیکھی۔ اس کی وجہ سے ملک میں بحران کے آثار پیدا ہوئے، کیونکہ برطانیہ میں بے روزگاری میں اضافہ اور برطانوی کارکنوں کے حالات زندگی میں تنزلی دیکھنے میں آئی۔

دوسری طرف برطانیہ کو مشرقی افریقہ کی کالونیوں میں معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا، جو بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور معیشت کی تباہی سے دوچار تھا۔

1897 میں افریقہ میں موجود آبادکار کالونیوں کا منظر۔
1897 میں افریقہ میں موجود آبادکار کالونیوں کا منظر۔

مزید رقم جمع کرنے اور معیشت کو بحال کرنے کی امید میں برطانیہ نے پہلے بھی متعدد برطانوی سرمایہ کاروں کی مدد سے یوگنڈا میں ریلوے لائن قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس ریلوے نے برطانوی حکومت کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ کیونکہ برطانوی اس کی معمولی آمدنی کے بارے میں مایوسی کا شکار تھے، جو اس کی تعمیر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی تھے۔

اس صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے برطانوی حکام نے برطانیہ میں یہودیوں کو یوگنڈا منتقل کرنے کے خیال پر بات کی۔ اس بنا پر برطانوی صیہونی تنظیم کے امکان پر یقین رکھتے تھے جس میں بہت سے دولت مند لوگ شامل تھے، اپنی معیشت کو متحرک کرنے اور برطانوی خزانے کو مزید مالیاتی محصولات فراہم کرنے کے لیے اس خطے میں قابل قدر رقم منتقل کرتے تھے۔

برطانیہ نے انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے درمیان بویر جنگوں کے بعد جنوبی افریقہ میں رہنے والے ڈچ نژاد بویرز کے ساتھ توازن پیدا کرنے کے لیے یہودیوں کو یوگنڈا لے جانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

یوگنڈا کا منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

جیسے جیسے یہودیوں کے لیے ایک وطن بنانے کی برطانو ی خواہش بڑھتی گئی، صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل نے اپنے خواب کی تعبیر کے لیے برطانوی حکام سے رجوع کیا۔

نوآبادیاتی سکریٹری جوزف چیمبرلین سے ملاقات کے بعد ہرزل نے برطانوی ضمانتیں حاصل کیں کہ یہودیوں کو یوگنڈا لے جایا جا سکتا ہے تاکہ وہ وہاں رہ سکیں اور اس کی سرزمین پر اپنی قومی ریاست قائم کر سکیں۔

سنہ 1903ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں منعقد ہونے والی صہیونی تحریک کی چھٹی کانگریس کے دوران ہرزل نے اس برطانوی خیال کو تحریک کے اراکین کے سامنے پیش کیا اور مشرقی یورپی یہودیوں کو عارضی طور پر یوگنڈا لے جانے کے امکان کے بارے میں بات کی اور بعد میں انہیں فلسطین منتقل کرنے سے پہلے یوگنڈا کے قیام کے لیے کہا۔

اس منصوبے کی اکثریت سے منظوری کے بعد صہیونی تحریک نے یہودیوں کی منتقلی اور انہیں یوگنڈا میں آباد کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھیجی۔

اس کمیٹی کے زیادہ تر اراکین نے خیال کی مشکل کے بارے میں بات کی اور یوگنڈا میں زندگی کی بنیادی ضروریات کی کمی کی طرف توجہ دلائی۔

ان بیانات کی وجہ سے صہیونی تنظیم کو تقسیم کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اس کے ارکان کی ایک بڑی تعداد نے یوگنڈا کے منصوبے کو غداری قرار دیا تھا۔

سنہ 1905ء میں صیہونی تحریک کی ساتویں کانگریس کے دوران بھاری اکثریت نے یوگنڈا کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا۔ جس کی وجہ سے یوگنڈا میں یہودیوں کو آباد کرنے کا خیال ترک کر دیا گیا۔

تاہم فلسطین کے علاوہ آسٹریلیا، کینیڈا، عراق اور لیبیا میں بھی یہودیوں کو بسانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں