اسرائیل سے جنگ بندی کے مطالبہ کی پاداش پر امریکی یونیورسٹی کے کئی طلبہ معطل

کولمبیا یونورسٹی کی 'تادیبی کمیٹی' نے دو طلبہ گروپوں کو پالیسی کے خلاف جانے کی سزا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکہ میں غزہ پر اسرائیلی جنگ جاری رکھنے کے حامیوں اور فوری جنگ بندی کے حامیوں کے درمیان تنازعہ شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ اس شدت کا تازہ اظہار امریکہ کی ایک اہم یونیورسٹی میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے دو گروپوں سے وابستہ طلبہ کی ستمبر سے فروری تک کے سمیسٹر کے لیے معطلی سے کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ان دو گروپوں 'سٹوڈنٹس فار جسٹس ان فلسطین' اور 'جیوش وائس فار پیس' سے وابستہ طلبہ کے خلاف آیا ہے۔ یہ دونوں گروپ اسرائیل کی غزہ میں بمباری کے خلاف یونیورسٹی میں سرگرم ہیں۔ انہیں سزا دینے کی بھی یہی وجہ بنی ہے۔

طلبہ کے دونوں گروپ جو بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیلی جنگ کے سلسلے حمایت پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ تاہم کولمبیا یونیورسٹی کی 'چئیر آف سپیشل کمیٹی آن کیمپس سیفٹی' جمعہ کے روز 'اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کی وجہ سے انہیں پورے 'فال سمیسٹر' کے لے یونیورسٹی سے معطل کر دیا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کی سیفٹی کے امور کو دیکھنے والی کمیٹی نے ان طلبہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ دونوں گروپوں نے بار بار یونیورسٹی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور یونیورسٹی میں تقریبات کا انعقاد کیا۔ یہ تقریبات کرنے کے لیے دونوں گروپ غیر مجاز تھے۔ جمعرات کی سہ پہر یونیورسٹی کی طرف سے انتباہ کے باوجود پروگرام کیا گیا اور دھمکی آمیز انداز بیانیہ اختیار کیا گیا۔

یونیورسٹی کی یہ فیصلہ دینے والی کمیٹی یونیورسٹی کی سیفٹی اور تحفظ کے امور کی نگران سمجھی جاتی ہے تاہم اس نے پر امن انداز میں کی گئی ان تقریبات کو بھی یونیورسٹی کے لیے خطرہ سمجھا ہے جو اس کے نزدیک اسرائیل یا یہودیت مخالفت پر مبنی تھیں۔ اس بڑی یونیورسٹی نے جنگ کی مخالفت کو براہ راست یہود مخالفت کا ہم معنی قرار دے دیا ہے؟

' جیوش وائس فار پیس' یونیورسٹی کے اس سزا دینے کے فیصلے کو 'سنسر شپ' اور یونیورسٹی کی طرف سے دھمکی پر مبنی قرار دیا۔ نیز مطابہ کیا کہ اسے فوری واپس لیتے ہوئے طلبہ کو بحال کیا جائے۔

'جیوش وائس فار پیس' نے یہ بھی کہا ہے 'طلبہ کے دونوں گروپ بڑی صراحت کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پورے اخلاقی جواز کے ساتھ آواز بلند کی ہے۔ یہ گروپ جنگ کے لیے نہیں جنگ کے خاتنے اور زندگیاں بچانے کے حق میں بات کرتے ہیں۔'

دوسری جانب 'سٹوڈنٹس فار جسٹس ان فلسطین' نے اپنے رد عمل میں کہا 'آپ ہماری تنظیموں کو بند کر سکتے ہیں مگر ہمارے دلوں کو آزادی، انسانیت اور فلسطین کی آزادی کے لیے دھڑکنے سے نہیں رو ک سکتے ہو۔'

واضح رہے آزادی اظہار اور تحمل و بردباری کی دعووں کی اس دھرتی پر اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کرنا اور ہلاک ہونے والے ہزاروں بچوں کے حق میں بولنا بھی برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ امریکی کانگریس کی رکن راشدہ طلیب کو بھی ایوان نمائندگان میں کارروائی کا اسی وجہ سے نشانہ بننا پڑا۔

جمہوری آزادیوں کی ماں کا درجہ رکھنے والے برطانیہ میں بھی وزیر داخلہ اور حکومت آزادی اظہار ست سخت نالاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں