برطانیہ سعودی شہری منصوبے ’نیوم‘ کا پہلا بین الاقوامی مرکز قرار

سعودی عرب کے 500 بلین ڈالر کے شہری منصوبے ’نیوم‘ کا پہلا بین الاقوامی دفتر برطانیہ میں کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب کے 500 بلین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری سے تعمیر ہونے والے مستقبل کے میگا کاروباری اور سیاحتی شہر کے منصوبے ’نیوم‘ (NEOM) کا پہلا بین الاقوامی دفتر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں کھول دیا گیا ہے جو براعظم یورپ میں شراکتی مواقعوں کے لیے ایک بنیاد کے طور پر کام کرے گا۔

برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز، اور برطانوی نائب وزیر اعظم اولیور ڈاوڈن اور نیوم کے سی ای او نظمی النصر اس سلسلے میں باضابطہ افتتاحی تقریب کے مہمانان خصوصی میں شامل تھے۔

سعودی عرب کا سرسبز اور جدید شہر کی تعمیر کا منصوبہ مستقبل کی بے مثال کاروباری اور سیاحتی سرگرمیوں کا عکاس ہو گا۔ اس بھرپور ماحول دوست شہر نیوم کا نام یونانی لفظ NEO سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے’نیا‘ اور عربی زبان کے حرف میم کو لفظ ’مسقبل‘ سے مستعار لیا گیا ہے۔

اس طرح ’نیوم‘ کا مطلب ’نیا مستقبل‘ ہوا اور اپنے نام کے عین مطابق یہ شہر مستقبل کی ایسی خاص سرزمین بننے جا رہا ہے کہ جہاں بہترین کاروبار، نئے زمانے کی صنعتیں اور اعلیٰ ترین تخلیقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد رہائش پذیر ہوں گے۔

یہ دنیا میں مستقبل کے ایسے جدید شہروں میں اولین منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے جو نئے تخیلات کے تحت تعمیر کئے جانے ہیں۔ خاص طور پر یہ شہر ایک بہت بڑے باغ کی صورت میں جدید شہری سہولیات سے مالامال ہوگا جہاں ساری آمدورفت سو فی صد قابلِ تجدید توانائی سے منسلگ ہو گی۔

نیوم پراجیکٹ کی تعمیر زور وشور سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کے سماجی اور اقتصادی ترقی کے منصوبے 'وژن 2030ء‘ کا حصہ ہے۔ یہ اصلاحات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017 میں متعارف کرائی تھیں جس میں معیشت کو متنوع بنانا اور تیل کی دولت پر انحصار کم کرنا سمیت مزید کئی ہمہ جہتی اقدامات اٹھائے جانے ہیں۔

تعمیراتی منصوبہ نیوم ممکنہ طور پر 2039 میں مکمل ہو گا۔ یہ بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب واقع سعودی شہر ہو گا جہاں مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اسے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم کے طور پر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

نیوم کے پہلے بین الاقوامی مرکز کے قیام کیلئے برطانیہ میں ہالبورن کے وسطی ضلع میں واقع چانسری ہائوس کا انتحاب کیا گیا ہے۔ اس دفتر کا افتتاح نیوم کے بین الاقوامی منظرنامے پر احاطے کیلئے ایک اہم سنگ میل رکھتاہے، جو مملکت برطانیہ اور نیوم کے درمیان پہلے سے جاری شراکتوں میں ایک اہم ترین اضافہ ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ نیوم کے پہلے دفتر کا قیام مستقبل میں تعاون کے لامحدود مواقع کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ کاروبار اور وسائل کے تحفظ کی نئی تعریف کرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مزید تیز کرے گا۔

نیوم کا برطایہ میں بین الاقوامی دفتر پورے براعظم یورپ میں شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعلقات استوار کرنےمیں مددگار ہوگا اور کاروبار کو وسعت دینے کیلئے ایک بنیاد کے طور پر بھی کام کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ خالد نے کہا نیوم کے قیام کا مقصد جدید تقاضوں کے مطابق دنیا بھر کے لوگوں کیلئے رہائش اور کام کرنے کے بدلتے ہوئے طریقوں کو متعارف کرواناہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن میں اس کے دفتر کے قیام سے برطانیہ کے سرمایہ کاروں، تنظیموں اور اختراع کاروں کو اس منصوبے اور اس کی عالمی اہمیت کو متعارف کرانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا ہو گا۔

اس دفتر کا افتتاح برطانیہ کے اس اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں کے شراکت دار انسانی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور سب کے لیے ایک نئے مستقبل کا نقشہ فراہم کرنے کے لیے نیوم کی پائیدار بنیادوں پر تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

نیوم دراصل عمودی شہری سہولتوں سے آراستہ THE LINE کے ساتھ ، کاروباری مرکز Oxagon، پرتعیش کشتی رانی پر مشتمل Sindalah اور Trojena کی پہاڑی سیر گاہ پر مشتمل ہو گا۔

برطانیہ کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر نائب وزیر اعظم ڈاؤڈن نے کہا کہ لندن میں منعقدہ اس تقریب میں انکی سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر آل سعود اور نیوم کے سی ای او نظمی النصر کے ہمراہ شرکت انکے لئے مسرت کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ لندن کا یہ مرکز جو بین الاقوامی سطح پر پہلا دفتر ہے، ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیوم کو لندن کے معاشی اور ٹیک ایکو سسٹم کے ساتھ مربوط کرنا، ڈیزائن اور پروجیکٹ مینجمنٹ کے لیے اس نئے شہری منصوبے کا دوسرا گھر بننے جیسا ہے جو پورے برطانیہ میں سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دے گا۔

نیوم کے سی ای او نظمی النصر نے کہا ہمارا عزم ہے کہ ہمیں عالمی منظر نامے پر موجودگی اور دنیا کے اہم چیلنجز کو حل کرنے کے لیے قابل ترین ذہنوں کے ساتھ کام کرنا ہے۔ اس نقطہ نظر سے نیوم کا پہلا بین الاقوامی دفتر کھولنے کے لیے لندن کا انتخاب برطانیہ اور یورپ میں عمومی طور پر اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کرنے کے حوالے سے مناسب ترین قدم ہے۔

نیوم نے پہلے ہی برطانیہ اور یورپی اداروں کے ساتھ بہت ساری اہم سرمایہ کاری شراکت داریاں قائم کی ہیں، اور اس دفتر کے ذریعے، ہم تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے اور منفرد مواقع اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عبداللہ الحزانی کو نیوم یورپ کا سی ای او مقرر کیا گیا ہے، جو اس سے پہلے نیوم کے اعلی درجے کی صنعتوں کے مرکز، Oxagon کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے طور پر کام کرہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں