غزہ جنگ سے اسرائیلی معیشت کو بھاری نقصان، تمام شعبے متاثر

افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے ہر ہفتے جنگ پر 600 ملین ڈالر کی لاگت آرہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے مرکزی بینک کے مطابق غزہ میں جنگ میں شدت آنے اور افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کو اس جنگ سے ہر ہفتہ 600 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اسرائیل کے مرکزی بینک کے مطابق غزہ میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد اسرائیلی معیشت کے تمام شعبوں کو انتشار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس جنگ پر ہر ہفتے 600 ملین ڈالر کی بھاری لاگت آرہی ہے۔

یہ اخراجات بہت سے سکولوں کی بندش، غزہ اور لبنان کی سرحدوں کے قریب علاقوں سے لگ بھگ ایک لاکھ 44 ہزار کارکنوں کے انخلاء کے نتیجے میں افرادی قوت کی کمی کے باعث بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج میں تقریباً 350,000 ریزرو فوجیوں کو خدمات کے لیے بلانے کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد ہزاروں فلسطینی کارکنوں کے ورک پرمٹ منسوخ کر دیے تھے جس کی وجہ سے تعمیراتی شعبہ میں سست روی آگئی ہے۔ اس شعبہ میں اب مزدوروں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

فی الحال تعمیراتی شعبے میں ایک لاکھ فلسطینی کارکنوں کو ہندوستانی کارکنوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فلسطینی کارکن اس شعبے میں انسانی وسائل کا تقریباً 25 فیصد حصہ ہیں۔

غزہ کی جنگ میں اکتوبر میں اسرائیل کو تقریباً 23 بلین شیکل یا 6 بلین ڈالر کا بجٹ خسارہ ہوا۔ یہ خسارہ ستمبر میں جی ڈی پی کے 1.5 فیصد سے بڑھ کر 2.6 فیصد ہو گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس موخر ہونے کی وجہ سے گزشتہ ماہ محصولات میں سال بہ سال 15 فیصد کمی واقع ہوئی۔ سنٹرل بینک آف اسرائیل میں غیر ملکی زرمبادلہ میں بھی اکتوبر میں 7 بلین ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔

دو ہفتے سے زیادہ عرصہ قبل غزہ میں ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی کارروائیوں میں اسرائیل کی شمولیت نے مرکزی بینک کو اس سال کے دوران اقتصادی ترقی کی اپنی پیشن گوئی کو کم کر کے 2.3 فیصد کرنے پر آمادہ کردیا تھا۔ یہ شرح نمو جنگ سے قبل 3 فیصد رہنے کی توقع تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں