غزہ کی ننھی جولیا نہیں جانتی اس نے اپنے والدین کو کھودیا ہے

خوبصورت بچی کے پاس اپنے والدین کے ساتھ تصاویر کی یادوں کے سوا کچھ نہیں بچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ سے آئے روز ان گنت سانحات سامنے آرہے ہیں۔ لڑائی کو 37 روز گزر گئے ہیں۔ 11180 فلسطینیوں کی اموات کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ وہاں موت سے بچ جانے والوں کے لیے سوائے یاد کے اور کچھ نہیں بچا۔

آج کی کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جس کی عمر 3 سال سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ ابھی تک نہیں جانتی کہ اس نے اپنے والدین کو اسرائیلی بمباری میں کھو دیا ہے۔ اس کے والدین گھر پر بمباری میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔ چھوٹی بچی جولیا غزہ پر اسرائیلی بمباری سے بچ گئی اور اکیلی رہ گئی اور اس نے اپنی خوبصورتی اور معصومیت سے دلوں کو توڑ کر رکھ دیا۔

جولیا سارے گھر کے لیے خوشی کا باعث اور رونق تھی۔ اس کی وجہ سے گھر والوں کے چہرے کھلے رہتے تھے۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ وہ تو اپنے ماں باپ کی اکیلی بیٹی تھی۔

جولیا اپنی خوبصورت ملبوسات کے لیے مشہور تھی۔ یہ وہ ملبوسات تھے جو اس کی ماں نے احتیاط سے اس کے لیے منتخب کئے تھے۔ اس کی ماں ان خوش گوار لمحات کو یاد رکھنے کے لیے ننھی جولیا اور اس کے والد کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو بناتی تھیں۔

تاہم جنگ نے جولیا کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ اس نے اپنے گھر کو تباہ کرنے والی بمباری میں اپنے والدین کو کھو دیا ۔ وہ زخمی ہو کر زندگی سے لپٹ گئی لیکن غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اس کا خوبصورت اور دمکتا چہرہ بھی داغدار ہوگیا۔ اب جولیا کے پاس تصویروں کی صورت میں یادداشتوں کے سوا کچھ نہیں بچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں