90 فیصد سعودی بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں: یونیسیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ لگ بھگ 90 فیصد سعودی بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا خلیجی ممالک 96 فیصد سے زیادہ ڈیجیٹل سپیس تک قابل ذکر رسائی کی شرح سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

پانچ سالہ قومی منصوبے کے ساتھ سعودی عرب نے بین الاقوامی معیارات کے مطابق انٹرنیٹ پر بچوں کی حفاظت کے لیے قومی فریم ورک کا آغاز کیا ہے۔ سعودی فیملی فورم کے کام کے آغاز میں اس کے چھٹے ایڈیشن میں خاندانی امور کی کونسل نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے ماہرین کے تعاون سے اسی فریم ورک کو تیار کیا تھا۔

خلیج میں عرب ممالک کے لیے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے نمائندے الطیب آدم نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ بچوں کے پاس انٹرنیٹ کے استعمال کے ذریعے علم حاصل کرنے اور صلاحیتیں پیدا کرنے کے نمایاں اور بے شمار مواقع ہیں۔ یہ ملک میں تیز رفتار ڈیجیٹل انقلاب کی جانب قدم ہے۔

بچے اور انٹرنیٹ

انہوں نے وضاحت کی کہ بچوں کے انٹرنیٹ کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ خاص طور پر دنیا کو لپیٹ میں لینے والے وبائی مرض کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اس کے نتیجے میں کئی بنیادی خطرات پیدا ہوئے۔ ان خطرات میں ڈیجیٹل سپیس میں بچوں کی حفاظت کے ذرائع کی کمی بھی شامل ہے۔ بچوں پر تشدد اور ان کے جنسی استحصال کے امکانات میں بھی اضافہ ہوا۔ اسی تناظر میں ایک قومی فریم ورک کی تشکیل کی جانب سعودی اقدام بڑا اہم ہے جو انٹرنیٹ پر بچوں کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔

الطیب ادم
الطیب ادم

انٹرنیٹ پر بچوں کی حفاظت کے لیے قومی فریم ورک بچوں کو سائبر سپیس کے خطرات سے بچانے کے طریقوں میں اضافہ کرے گا۔ یہ فریم ورک بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے معاشرے کے ارکان میں سائبر سیکیورٹی کے بارے میں بیداری اور علم کی سطح کو بلند کرے گا۔ اس سے ڈیجیٹل خطرات سے آگاہی کا ماحول تشکیل پائے گا۔

بچوں کا ڈیٹا

دوسری جانب یونیسیف کے ایک عہدیدار الطیب آدم نے تمام قومی اداروں کے اندر شماریاتی ٹیم رکھنے پر توجہ دینے پر زور دیا۔ اس ٹیم کا بنیادی کام بچوں کے ڈیٹا پر توجہ دینا اور درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہے۔

ایڈم نے مزید کہا کہ چیلنجوں کے تناظر میں بچوں کے اعداد و شمار کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے کہ یہ پائیدار ترقی کے اشارے کی ضروریات کے مطابق ڈھل جائے۔ ساتھ ہی اچھے معیار کی معلومات کیسے تلاش کی جائے۔ ان امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اتوار کے روز ریاض میں سعودی فیملی فورم کے کام کے فریم ورک کے اندر خصوصی ڈائیلاگ سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ ایک نمایاں تقریب میں ماہرین اور خاندان کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والوں نے شرکت کی۔ خاندان کے استحکام اور معیار زندگی کی سطح کو بہتر بنانے میں معاون بننے والی سفارشات پر غور کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں