پیپسی کمپنی پلاسٹک کی آلودگی پھیلانے کے الزام میں عدالت طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی ریاست نیویارک نے پیپسی کمپنی کے خلاف مبینہ طور پر پلاسٹک کی آلودگی میں ملوث ہونے پر مقدمہ کر دیا۔

نیویارک کی ریاست نے گذشتہ دنوں الزام عائد کیا کہ مشروبات اور اسنیک فوڈ کمپنی ایک مرتبہ استعمال کی جانے والی پلاسٹک کی بوتلوں، ڈھکنوں اور انکے غلاف کے ذریعے ماحول کو آلودہ کر رہی ہے۔

بالائی نیویارک کی کائونٹی ،ایری میں ریاستی عدالت میں دائر کیا گیا مقدمہ کسی بھی امریکی ریاست کی طرف سے پلاسٹک کے بڑے پروڈیوسر کو نشانہ بنانے والی اپنی نوعیت کی پہلی قانونی کارروائی بتائی جاتی ہے۔

ریاست کے اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے پیپسی کمپنی پر الزام لگایا کہ وہ دریائے بفیلو کے اوپر اور اس کے آس پاس پائے جانے والے پلاسٹک کے فضلے میں اس کا ایک اہم حصہ ہے جو عوامی کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ ان کے مطابق یہاں پائے جانے والے کچرے میں 17 فیصد سے زیادہ حصہ پیپسی کے مختلف مصنوعات پر مشتمل ہے۔

اٹارنی جرنل نے کہا کہ کمپنی اپنی سو سے زائد مصنوعات کی تشہیر میں پلاسٹک کے صحت پر ممکنہ منفی اثرات اور ماحول کے لیے خطرات کے بارے میں صارفین کو خبردار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمپنی پلاسٹک کی آلودگی سے لڑنے کی اپنی کوششوں کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا ہے۔

انہوں مزید کہا کہ اس طرح کی پلاسٹک وقت گزرنے کے ساتھ ناکارہ ہونے کے بعد بھی پینے کے پانی میں شامل ہو کر اسے آلودگی کرسکتی ہے جس سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹکی کی آلودگی سے پیدا ہونے والے ان مسائل میں خواتین میں جلد بلوغت، مردوں میں سپرم کی تعداد میں کمی، تولیدی اعضاء کے بدلے ہوئے افعال، موٹاپا، تبدیل شدہ مخصوص جنسی رویے اور بعض قسم کے کینسر کی شرح میں اضافے جیسے سنگین مسائل شامل ہیں۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی کے اثرات ممالیہ جانوروں پر بھی دیکھے گئے ہیں، اور محققین کو خدشہ ہے کہ انسانوں میں بھی ایسے ہی اثرات ظہور پزیر ہوسکتے ہیں۔

مقدمہ کرنے کا مقصد پیپسی کمپنی کو پلاسٹک کے منفی اثرات پھیلانے سے روکنا، آلودگی کو صاف کرنےمیں مددگار ہونا، اور دیگر امداد فراہم کرنے پر مجبور کرنا بتایا جاتاہے۔

واضح رہے کہ پیپسی کمپنی کا ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست نیویارک کے علاقے پرچیزمیں واقع ہے۔ پیپسی کولا کے علاوہ، اس کے برانڈز میں مائونٹین ڈیو، لپٹن، لیز، فریٹوز چیٹوز، کویکرز سمیت کئی برانڈز شامل ہیں۔

امریکی ریاستوں کنیکٹی کٹ اور مینی سوٹا نے اس سے قبل پلاسٹک سے مختلف کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی تھی۔ ان کمپنیوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ مصنوعات کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے تھیلوں کو جعل سازی اور فریب سے ری سائیکل کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتی تھی ۔

مقبول خبریں اہم خبریں