مدینہ منورہ : غزوہ خندق کے علاقے کا ترقیاتی منصوبہ منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مدینہ منورہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’غزوہ خندق‘ کے تاریخی علاقے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ اس حوالے سےترقیاتی منصوبہ منظور کرلیا گیا۔

اخبار 24 کے مطابق مدینہ منورہ میں غزوہ خندق کا مقام زائرین میں غیر معمولی طور پر مقبول ہے یہاں آنے والے اسلامی دور کے تاریخی معرکے کا مقام دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ غزوہ خندق دو حروں کے درمیان واقع ہوا تھا مغرب کی جانب الوبرۃ اور مشرق کی جانب واقم حرۃ ہیں۔

غزوہ خندق کی یاد تازہ کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چھ مساجد بنی ہوئی ہیں جنہیں عام طور پر ’مساجد سبعہ‘ (سات مساجد) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ساتویں کا اضافہ مسجد القبلتین کی صورت میں ہے۔

غزوہ خندق 627 عیسوی میں ہوا تھا اسلامی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جزیرہ عرب کے تمام قبائل نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی حملہ آوروں سے بچاؤ کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گہری خندق کھودی تھی۔ لشکر کشی میں عرب دنیا کے مشرک اور یہودی متحدہ طور پر شریک ہوئے تھے۔ خندق مدینہ منورہ کی شمالی داخلہ گاہ پر کھودی گئی تھی۔ یہ مدینہ میں داخلے کا واحد راستہ تھا۔ دیگر راستے ایک دوسرے سے مربوط عمارتوں کی وجہ سے محفوظ تھے۔ چٹانیں، کھجوروں کے گھنے درخت بھی بیرونی لشکر کے مدینہ میں داخل ہونے کی راہ میں رکاوٹ تھے۔
غزوہ خندق میں مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی انہوں نے دشمنوں کے محاصرے کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں