2001 کی فلسطینی انتقامی کارروائی جس نے اسرائیلیوں کے چھکے چھڑا دیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک خفیہ گوریلا تنظیم ہے۔ اس تنظیم کی تباہ کن کارروائیاں 1970ء اور 1980ء کے عشرے میں عروج پر تھیں۔ اس کے جنگجو اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے کے لیے غبارے اور موٹرائزڈ گلائیڈرز جیسے غیر معمولی ذرائع مواصلات استعمال کرتے تھے۔

امسال سات اکتوبر کو حماس کے جنگجوﺅں نے بھی انہی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس تنظیم کی چھاپہ مار کارروائیوں نے 2001ء میں اسرائیلی فوجیوں کے لیے خوف کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔

اسرائیل نے اس تنظیم کے خاتمے کے لیے کمر کس لی اور27 اگست 2001ء کو تنظیم کے سیکرٹری جنرل ابو علی مصطفی کو البریح شہر میں قتل کر دیا۔ اپنے سیکرٹری جنرل کا قتل اس تنظیم کے لیے کسی بڑے سانحے سے کم نہ تھا، لہذا پی ایف ایل پی کے جنگوﺅں نے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔

رحبعام زئيفي اسرائیلی فوجیوں کے ہمراہ
رحبعام زئيفي اسرائیلی فوجیوں کے ہمراہ

تنظیم نے طے کیا کہ اپنے مرکزی رہنما کی جان کے بدلے میں کسی بڑے اسرائیلی رہنما کو قتل کیا جائے گا۔ اس کے لیے اسرائیلی فوج کے سابق جنرل اور اس وقت کے وزیر سیاحت رحبعام زیوی کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا۔

رحبعام زیوی کا اسرائیل کی بڑی چنیدہ شخصیات میں شمار ہوتا تھا، زیوی نے اپنے فوجی کیریئر کے دوران عرب اسرائیل کی 1948ء اور 196ء جنگوں میں حصہ لیا تھا، اسرائیل میں اس کی شہرت ایک باصلاحیت، بہادر اور نڈر فوجی جنرل کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب رحبعام زیوی ستمبر1973ء میں جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوا تواس وقت عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ عرب اور اسرائیل میں سے ایک کی بقا اوردوسرے کی فنا کی جنگ تھی۔

ابو علی مصطفیٰ
ابو علی مصطفیٰ

لہذا اسرائیلی فوج زیوی کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اسے جنرل سٹاف کے عہدے پر واپس لائی اور چھ اکتوبر 1973ء کی جنگ میں اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔ زیوی کی خدمات کے اعتراف میں 2001ء میں اسے فوجی کیریئر کے دوران ہی اسرائیلی وزیر سیاحت کا عہدہ دے دیا گیا ،جس پر وہ آخری دم تک خدمات انجام دیتے رہے۔

پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے جنگجوﺅں نے رحبعام زیوی کی جاسوسی کی۔ اس کی نقل وحرکت کا جائزہ لیا، دفتر آنے جانے کے اوقات اور راستے کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ جس دوران پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کو پتہ چلا کہ رحبعام زیوی یروشلم میں واقع حیات ہوٹل کے ایک کمرے میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہے۔

رحبعام زئیفی کے قتل کا مقام حیات ہوٹل
رحبعام زئیفی کے قتل کا مقام حیات ہوٹل

دفتری اوقات کے بعد وہ فارغ وقت اسی ہوٹل میں گزارتا ہے۔ وہ کسی کے پاس نہیں جاتا یہاں تک کہ اس کے دوست احباب اور رشتے دار بھی اسے وہیں پر ملنے آتے ہیں۔ لہذا پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یروشلم کے حیات ہوٹل میں ہی ایک کمرہ بک کروایا اور اپنے چاراہم ترین جنگجوﺅں کو وہاں تعنیات کر دیا۔

ان جنگجوﺅں نے زیوی کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھی۔ اس کے کمرے سے باہر نکلنے اور واک کرنے کے اوقات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ 17 اکتوبر 2001ء کو زیوی یروشلم میں حیات ہوٹل کے کمرہ نمبر816 میں مقیم تھا۔ اس دن زیوی کے ہمراہ کوئی بھی سیکورٹی گارڈ نہ تھا، جس کے بعد پاپولر فرنٹ کے جنگجوﺅں نے اس کو موقع غنیمت جانا اور اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

رحبعام زیوی
رحبعام زیوی

17 اکتوبر 2001ء کو دن صبح چھ بجے رحبعام زیوی اپنی بیوی کے ہمراہ ہوٹل کے ڈائننگ ہال کی طرف گیا۔ جہاں پر پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے ایک جنگجو حمدی قرعان نے اسے دیکھ کر اپنے ساتھیوں کو مطلع کیا کہ وہ رحبعام زیوی پر حملہ کرنے کے لیے تیاری کریں۔ جس کے بعد پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے چار جنگجوﺅں نے آتشیں اسلحہ کے ساتھ ہوٹل کی آٹھویں منزل پر اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ 6:50بجے رحبعام زیوی اکیلا اپنے کمرے میں واپس آیا، تو لفٹ سے باہر نکلتے ہی جنگجو حمدی قرعان نے قریب آ کر تین گولیاں چلائیں، جن میں سے دو گولیاں اس کے سر میں لگیں اور وہ وہی گر گیا۔

صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے کوئی بھی آدمی لفٹ کی جانب نہیں گیا، تقریباً ایک گھنٹے کے بعد رحبعام زیوی کو خون میں لت پت دیکھا گیا، تو اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں پر صبح دس بجے کے قریب اس کی موت کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا۔

اس کارروائی نے اسرائیلیوں میں خوف وہراس پھیلا دیا کیونکہ رحبعام زیوی فلسطین اسرائیل تنازع کے آغاز سے لے کر اب تک فلسطینیوں کے ہاتھوں مارے جانے والی سب سے اہم سیاسی شخصیت تھی۔ اس کارروائی کے بعد پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے ارکان وہاں سے واپس مغربی کنارے چلے گئے۔

اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں کریک ڈاﺅن شروع کر دیا اور یاسر عرفات کے ہیڈ کوارٹر کا محاصرہ کر لیا کیونکہ اسرائیلی ایجنسیز کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ زیوی کے قاتل یاسر عرفات کے ہیڈ کواٹر میں موجود ہیں۔

جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے فریقین کے درمیان مصلحانہ کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو اس بات پر راضی کیا کہ قتل کے مجرموں کو امریکی اور برطانوی سیکورٹی میں دے دیا جائے، جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے قاتلوں کو اریحا جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ اس علاقے میں ہائی سکیورٹی کے باوجود امریکی اور برطانوی سیکورٹی فورسز کے لیے امن و امان کے خطرات بڑھ رہے تھے، جس بنا پر دونوں ملکوں نے قتل کے مجرموں کو اسرائیلی حکام کے حوالے کر دیا اور واپس اپنے اپنے ملکوں میں چلے گئے۔ اس کے بعد اسرائیلی حکام نے قاتلوں کو عمر قید کی سزاﺅں کے ساتھ دوسری جیلوں میں منتقل کر دیا۔ قاتلوں کی گرفتاری کے باوجود اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے جنگوﺅں کا ہمہ وقت خوف طاری رہتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں