ایک نازی فوجی بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایجنٹ کیسے بنا؟

فیلڈ مارشل ایوب خان کی کرنل سکورزینی کو ایس ایس جی کی تربیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت لیکن امریکیوں کے ڈر سے اسے عملی جامہ نہ پہنا سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

1908 میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پیدا ہونے والے لیفٹیننٹ اوٹو سکورزینی کی زندگی کے کئی روپ ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں اس نے کئی اہم کارنامے سرانجام دیئے تھے، اسے جرمنی کے خودکش یونٹوں کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکہ نے کئی جرمن سائنسدانوں کو گرفتار کر کے اپنے ملک منتقل کیا جبکہ بہت سے جرمن فوجی اور سائنسدان محفوظ پناہ گاہ اور بہتر زندگی کی تلاش میں خود ہی اپنا ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

اسکورزینی کو 1945 میں قید کیا گیا تھا۔
اسکورزینی کو 1945 میں قید کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ہٹلر حکومت کے کئی اہم وزراء، بیورو کریٹ اور فوجی افسران عدالتی کارروائیوں سے بچنے کے لیے اپنی شناخت چھپا کر لاطینی امریکی ممالک میں روپوش ہو گئے تھے جبکہ کئی جرمن سکالرز اور سرکاری افسروں نے عربوں کے ساتھ مل کر ان کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے شام اور مصر کی طرف جانے کو ترجیح دی۔ مصر کی طرف جانے والوں میں ایس ایس کے سابق اہلکار اوٹو سکورزینی بھی شامل تھا، جو بعد میں اسرائیلی ایجنسی موساد کا ایجنٹ بنا۔

ارجنٹائن کے صدر جوآن پیرون کی تصویر
ارجنٹائن کے صدر جوآن پیرون کی تصویر

اوٹو سکورزینی ایک نڈر اور بہادر جنگجو تھا، اس نے بڑے خطرناک معرکے سر کیے تھے، اس نے ہنگری میں فوجی بغاوت کے لیے منصوبہ بندی کی، جس کے تحت ہنگری کے بادشاہ میکلوس ہورتھی کو معزول کیا گیا۔ اس کے علاوہ جب اطالوی بادشاہ وکٹر ایمانوئل اور فاشسٹ پارٹی کے عہدیداروں نے مسولینی کو معزول کر کے قید کیا تو اوٹو سکورزینی نے 1943ء میں آپریشن گران ساسو کی قیادت کی، جس نے نہایت دلیری کے ساتھ ایک پہاڑی قلعے میں قید اطالوی آمر مسولینی کو ایک ہلکے طیارے میں نکالا اور برلن میں ہٹلر کے روبرو کھڑا کردیا تھا۔ اس کے بعد اسکورزینی نے آپریشن گریف کی مشترکہ قیادت کی، جس نے اتحادی صفوں میں افراتفری پھیلا دی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی اوٹو سکورزینی کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا گیا مگر ثبوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسے رہا کر دیا گیا۔ جس کے بعد اسے ایس ایس کے رکن کے طور پر حراستی کیمپ میں دے دیا گیا۔

ارجنٹائن کے صدر جوآن پیرون کی تصویر
ارجنٹائن کے صدر جوآن پیرون کی تصویر

اسکورزینی سپین کے حراستی کیمپ 1948ء میں سے فرار ہو کر مصر چلا گیا۔ جہاں اس نے 1952ء میں مصر کے پہلے صدر محمد نجیب کے ساتھ بطور فوجی مشیر کام کیا۔ اس نے جرمن افواج کے سابق افسران اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر مصر کی جدید فوج تشکیل دی۔

جس کے بعد وہ ارجنٹائن چلا گیا، جہاں اس نے ارجنٹینا کے صدر جو آن پیرون کے مشیر اور ان کی اہلیہ ایوا پیرون کے محافظ کے طور پر کام کیا مگر اس کی وہاں کی سکیورٹی فورسز نے اس کی نقل وحرکت پر شک کیا کیونکہ اس وقت وہ موساد کا جاسوس بن چکا تھا۔ جس بعد وہ 1975 میں سپین چلا گیا، جہاں وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوا اور بالآخر 67 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

1989ء میں اس کی موت کے تقریبا 14 سال بعد اسرائیلی اخبارات نے اسکورزینی کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ رپورٹیں شائع کرنا شروع کر دیں؛ جس نے دنیا کو ششدر کر دیا۔

اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اسکورزینی 1963 ءمیں ہی موساد کے لیے کام کرنا شروع ہو گیا تھا۔ اسرائیل مصر کے میزائل پروگرام کے بارے میں معلومات چاہتا تھا جبکہ اسکورزینی اس وقت مصر کے صدرمحمد نجیب کے فوجی مشیر کے طور پر کام کر رہا تھا اور مصری افواج اورسائنسدانوں میں زیادہ تعداد جرمنوں کی تھی، جو پہلے اسکورزینی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ جس کے باعث اسکورزینی کا ان سے معلومات لینا کوئی مشکل کام نہ تھا جبکہ اسرائیلی ایجنسی موساد کے سابق سربراہ اسر ہیرل اپنے طور پر 1960ء کی دہائی میں ہی سابق جرمن اہلکاروں کو عرب ملکوں کی جاسوسی کے لیے ہائر کر چکے تھے۔

اوٹو اسکورزینی 1943 میں
اوٹو اسکورزینی 1943 میں

اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اسکورزینی نے موساد کے حکم پر کئی اہم کارروائیاں کیں۔ جن میں مصری میزائل پروگرام کے لیے کام کرنے والے جرمن سائنسدان ہینز کروگ کا قتل ہے، اس کے علاوہ ایک دھماکہ خیز پیغام کے ساتھ مصر کی اہم ترین میزائل فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں پانچ مزدور ہلاک ہوئے اور فیکٹری کے ایک حصے کو نقصان پہنچا تھا۔

گوہر ایوب خان (ایوان اقتدار کے مشاہدات) میں لکھتے ہیں: ان کے والد صدر ایوب خان نے جب فوجی کمانڈوز ایس ایس جی کے دستے کی تشکیل و تربیت کا پروگرام بنایا تو وہ ایک جرمن کمانڈو آفیسر کرنل اوٹو سکورزینی سے بہت متاثر تھے، جس نے نہایت دلیری کے ساتھ ایک پہاڑی قلعے میں قید اطالوی آمر مسولینی کو ایک ہلکے طیارے میں نکالا تھا اور برلن میں ہٹلر کے روبرو کھڑا کردیا تھا، والد نے پتا چلایا معلوم ہوا کہ کرنل سکورزینی سپین میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ اسے ایس ایس جی کی تربیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ لیکن پھر والد کو احساس ہو گیا کہ شاید امریکیوں کو یہ بات پسند نہ آئے۔ لہذا اسے منع کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں