حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہاز پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی حوثی گروپ نے اتوار کو بحیرہ احمر سے مبینہ طور پر اسرائیلی بحری جہاز ’’ گلیکسی لیڈر‘‘ پر قبضہ کرلیا تھا۔ پیر کو گروپ نے اس بحری جہاز پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کردی۔ ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ بحری جہاز کو کنٹرول میں لینے کے آپریشن میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا گیا۔

حوثی گروپ نے کہا تھا کہ اس نے بحیرہ احمر میں ساحل کی طرف سفر کرتے ہوئے ایک اسرائیلی بحری جہاز کو قبضہ میں لے لیا ہے۔ گروپ نے اعلان کیا تھا کہ بحیرہ احمر میں تمام اسرائیلی بحری جہازوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ بوریل نے حوثیوں کی کارروائی کی مذمت کی۔

اسی تناظر میں یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ و سلامتی پالیسی جوزف بوریل نے پیر کو کہا کہ انہوں نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرانڈبرگ کے ساتھ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی "خطرناک علاقائی جہت" پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

بوریل نے حوثیوں کی طرف سے کارگو جہاز پر قبضے کو بین الاقوامی سمندری حفاظت کے لیے خطرہ اور بحیرہ احمر میں نیویگیشن کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں قابل مذمت ہیں۔

واضح رہے سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اچانک اور حیران کن انداز میں اسرائیلی علاقوں پر حملہ کردیا۔ اس کے فوری بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری شروع کردی۔ غزہ میں رہائشی عمارتوں، سکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گاہوں کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔ 27 اکتوبر سے اسرائیلی فوج نے غزہ میں داخل ہوکر زمینی کارروائی بھی شروع کردی۔ 20 نومبر تک لڑائی کے 45 دنوں میں اسرائیل نے 13300 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ 6500 افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بھی جاں بحق ہوگئے ہیں اور ان کی لاشیں کھنڈر بنائی گئی عمارتوں کے ملبے کے نیچے دبی ہیں۔

جنگ کے خطے میں پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایران کے حامی مسلح گروپوں کی جانب سے عراق اور شام میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی باغی بھی اسرائیلی اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں