تاریخ کے جھروکوں سے

اسرائیل نے 1978 میں جنوبی لبنان پر حملہ کیوں کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہزاروں فلسطینیوں کی 1948ء سے1967ء کی مدت کے دوران آمد نے لبنان کی آبادی کو مسلم آبادی کے حق میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد لبنان میں عیسائی اور تنظیم آزادی فلسطین کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی، جو بعد ازاں مسلح تصادم میں بدل گئی۔ اس کے بعد اسرائیل، شام، ایران اور عراق بھی اس پرائی جنگ میں گود گئے۔

یہ تصادم 1975ء سے 1990ء تک جاری رہا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 120,000 ہلاکتیں ہوئیں اور 10 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسرائیل اور شام جیسی بڑی طاقتوں کی شمولیت کے بعد اس خانہ جنگی میں شدت آ گئی۔

تنظیم آزادی فلسطین المعروف پی ایل او لبنان کے اندر بہت زیادہ سرگرم تھی۔ اس کا اثر ورسوخ اس قدر زیادہ تھا کہ لبنانی حکومت بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتی تھی۔ اسی وجہ سے اسرائیل نے پی ایل او کو کمزور کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے اسرائیل نے اس جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی مسلح دھڑوں میں اسلحہ تقسیم کیا۔

اسرائیل نے اس جنگی مسلح تصادم سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے، 1978ء میں لبنانی سرزمین کے اندر ایک ”سیف زون“ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی۔ جس کا مقصد اس ”محفوظ زون“میں اپنی فوجی قوت بھیج کر پی ایل او کے مسلح جنگجوﺅں کا خاتمہ کرنا تھا۔

تحریک الفتح کے جنگجوﺅں نے تل ابیب جانے والی مسافر بس کو ہائی جیک کیا
تحریک الفتح کے جنگجوﺅں نے تل ابیب جانے والی مسافر بس کو ہائی جیک کیا

اسرائیلی کارروائی کے بعد فلسطینی جنگجوﺅں نے 11 مارچ 1978 کو آپریشن ”کمال عدوان“ کی منصوبہ بندی کی۔ یہ آپریشن حیفا کو تل ابیب سے ملانے والی سڑک پر کیا گیا تھا۔

اس آپریشن میں تحریک الفتح کے جنگجوﺅں نے تل ابیب جانے والی مسافر بس کو ہائی جیک کر لیا، جس میں کئی اسرائیلی مسافر سوار تھے۔ اس آپریشن کی اطلاع ملتے ہی اسرائیلی فوج مغوی افراد کی رہائی کے لیے جائے وقوعہ کی جانب بڑھی، جس کے بعد پرتشدد تصادم شروع ہو گیا جس میں37 اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ نو فلسطینی بھی کام آئے۔

دلال المغربی فائل فوٹو
دلال المغربی فائل فوٹو

اسرائیلی ذرائع کے مطابق فلسطینی جنگجو ابو نضال نے اس کارروائی کی منصوبہ بندی کی تھی جبکہ 20 سالہ دلال المغربی نے اس حملے کی قیادت کی تھی، جو اس کارروائی کے دوران گولیوں کی زد میں آ کر خود بھی جاں بحق ہو گیا تھا۔

آپریشن کمال عدوان کے صرف تین دن بعد اسرائیل نے لبنان میں فوجی مداخلت کا منصوبہ تیار کیا، جسے”لطانی آپریشن“ کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن میں اسرائیل نے دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع فلسطینی آزادی کی تحریک کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔

ابو نضال فائل فوٹو
ابو نضال فائل فوٹو

جنوبی لبنان کے شہروں اور دیہاتوں کی ایک بڑی تعداد پر کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ کئی شہروں میں اسرائیلی افواج کو شدید مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ صور شہر میں فلسطینیوں کی اسرائیلیوں کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی۔

”لطانی آپریشن“ایک ہفتے تک جاری رہا،اس میں 18 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ اسرائیلیوں نے جنوبی لبنان میں تقریباً 80 دیہات کو تباہ اور ایک چوتھائی ملین لوگوں کو بے گھر کر دیا۔

لبنان میں  1981 کی مدت کے دوران تعینات امن فوج
لبنان میں 1981 کی مدت کے دوران تعینات امن فوج

اس آپریشن میں ایک ہزار سے زائد عام شہری بھی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں فلسطینی جنگجو بھی جاں بحق ہوئے تھے۔ اسرائیلی افواج کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باعث اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی۔

اس خوفناک صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے لبنانیوں نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کرائی۔ جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے قرارداد 425 کے تحت اسرائیلی افواج کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیا، اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے بعد 21 مارچ 1978 کو اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں کو روکتے ہوئے وہاں سے انخلا کا فیصلہ کیا۔ یوں اسرائیل کی اپنے شمالی علاقے کی حفاظت کے لیے لبنان میں ایک ”سیف زون“ بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں