سعودی عرب کا شہد کی پیداوار کو تین سال میں دگنا کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مگس بانی کی نمایاں سعودی کمپنی، اظہر تبوک کے مالک حسن القرنی پائیدار بنیادوں پر زراعت اور دیہی ترقی کے قومی پروگرام، جسے رِیف (Reef) کے نام سے جانا جاتا ہے، کی شہد کی صنعت کے فروغ کے لیے کی جانے والی خدمات کے معترف ہیں۔

خاص طور پر رِیف سعودی کے موبائل کلینکس نے ان جیسے مگس بانوں کے لیے اپنے فارم پر جدید سہولیات سے استفادہ کرنے کا موقع میسر ہو گیا ہے۔

رِیف نے جدہ، جازان، مدینہ اور ابہا میں شہد کی مکھیوں کے کلینک شروع کیے ہیں، جو شہد کی مکھی پالنے والوں کو مگس خانہ کے معائنہ، مختلف قسم کی تشخیص، رہنمائی اور مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مگس بان یعنی شہد کی مکھیاں پالنے والے افراد کو اپنے کاروبار کو ترقی دینا ممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مملکت میں کسانوں کی مسلسل سرپرستی اور رہنمائی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے لیے وزارت ماحولیات اور آب و زراعت کے شکر گزار ہیں۔

ان شہد کی مکھیوں کے موبائل کلینکس نے ان جیسے مگس پال حضرات کو بہت سی خدمت انکے دروازے پر فراہم کردی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے پالنے کے حوالے سے رہنمائی، انکی بیماریوں کی تشخیص، جانچ پڑتال، مشاورت اور پائیدار حل فراہم کرنے جیسی خدمات سے مملکت کے دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

القرنی نے حال ہی میں کئی عرب ممالک کے مگس بانوں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہد کی پیداوار کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ انہوں نے سونے کا تمغہ جیتنے کے علاوہ شہد کی مکھیوں کی اختراعی مصنوعات کی کیٹیگری میں تیسرا انعام بھی جیتا۔

ان کی کامیابی دراصل مملکت میں مگس بانوں کے لیے وزارت آب و زراعت کی جانب سے فراہم کردہ رہنمائی اور مدد کی کامیاب کوششوں کا اعتراف ہے۔

انہیں کوششوں کے ثمرات کی بدولت رِیف سعودی، شہد کے شعبے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 49 فیصد کی شرح سے غذائی تحفظ اور خود کفالت کی جانب نمایاں پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

شہد کی مکھیوں کے کلینک کے آغاز سے اب تک 6016 نمونے موصول ہو چکے ہیں۔ (SPA)
شہد کی مکھیوں کے کلینک کے آغاز سے اب تک 6016 نمونے موصول ہو چکے ہیں۔ (SPA)

واضح رہے کہ سعودی عرب رواں سال شہد کی پیداوار کا حجم بڑھ کر 3,748 ٹن ہو گیا جو سال 2020 میں 2,100 ٹن تھا۔رِیف کے پرwگرام کا مقصد اگلے تین سالوں یعنی 2026 تک شہد کی پیداوار کو تقریباََ دگنا کرکے 7,500 ٹن تک لے جانا ہے۔

ریف سعودی دوردراز کے مختلف علاقوں میں مگس بانوں کو گائیڈ مینوئل فراہم کرنے کے ساتھ یہاں سے مختلف نمونے جانچ کے لیے جمع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہد کی مکھیوں کو متاثر کرنے والے کیڑوں اور بیماریوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ محکموں کو بروقت الرٹ کیا جا سکے۔

ان چار ماڈل کلینکس کے آغاز کا مقصد مملکت کی ’’شہد کی مکھیوں کی دولت‘‘کو بیماریوں اور کیڑوں کے حملے سے بچانا، ان کی مقامی کالونیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ پیداوار بڑھنے سے خود کفالت کا حصول ممکن ہو سکے۔

ریف سعودی نے شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کو معائنے، تشخیص اور رہنمائی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے مملکت کے چار خطوں میں مکھیوں کے کلینک شروع کیے ہیں۔ (SPA)
ریف سعودی نے شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کو معائنے، تشخیص اور رہنمائی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے مملکت کے چار خطوں میں مکھیوں کے کلینک شروع کیے ہیں۔ (SPA)

رِیف سعودی پروگرام کے مطابق، شہد کی مکھیوں کے کلینکس کے حالیہ آغاز کے بعد سے اب تک 6,016 نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن سے تحقیقی اور تصدیقی جانچ میں مدد ملی۔

رِیف پروگرام کا مقصد کاشت کاروں اور دیہی خاندانوں کی زرعی شعبے کو بہتر بنانے، کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور چھوٹے کسانوں کے معیار زندگی اور طرز زندگی کو بلند کرنے کے لیے کسانوں اور دیہی خاندانوں کی صلاحیتوں کو سپورٹ کرنا، اہل بنانا اور بڑھانا ہے، جس سے کسانوں اور شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کے لیے منڈیوں تک رسائی ممکن ہو گی۔ زرعی خدمات اور وسائل۔

یاد رہے کہ ریف کا ادارہ سعودی عرب میں مختلف فصل کی پیداوار کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارے نے 2023 میں 63,000 سے زائد زرعی منصوبوں کی کامیاب تکمیل میں مدد وتعاون کیا ہے، جس سے ویلیو ایڈڈ سیکٹر میں خود کفالت کی شرح 63 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔

وزارت ماحولیات، اور آب و زراعت (MEWA) سے وابستہ، ادارے رِیف کے تحت اٹھائے گئے اقدامات نے زرعی پیداوار میں اضافہ اور متنوع فصلوں کی کاشت سے مقامی طور پر خوراک کی فراہمی کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے مقامی منڈیوں میں پیدوار کی فراہمی اور قیمتوں میں نسبتاً استحکام آیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر دستیاب اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے منفی اثرات سے بچنے میں مدد ملی ہے۔

رِیف سعودی ان اقدامات سے کئی زرعی فصلوں کی کاشت میں مدد کے علاوہ ہنگامی حالات میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کی خوراک تک رسائی بہتر بنانے میں بھی مدد کی۔ مثال کے طور پرسعودی عرب میں کافی کی کاشت سمیت کئی اور شعبوں میں خود کفالت کی شرح کے حصول کے لیے منصوبے متعارف کروائے گئے۔ رِیف نے 2023 میں کافی کی پیداوارکو 1,009 ٹن تک بڑھا کر 16فیصد کی خود کفالت کی شرح حاصل کی جبکہ 2026 کا ہدف 7,000 ٹن رکھا گیا ہے۔

جہاں تک پھلوں کی پیداوار میں خود کفالت کا تعلق ہے، اس سال یہ سطح 90,000 ٹن پیداوار کے ساتھ 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کے 2026 میں 305,000 ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔

رواں سال بارانی علاقوں میں، جہاں فصلوں کی کاشت کے لیے بارش پر انحصار کرنا پڑتا ہے، 27,000 ٹن پیداوار یقینی بنا کر 13 فیصد کی خود کفالت کی شرح حاصل کی گئی ہے اور توقع ہے کہ 2026 میں یہ پیداوار 195,000 ٹن تک بڑھ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں