سعودی علاقے ساکاکا میں 300 سال قبل مسیح کے نوادرات دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی وزارت ثقافت کی ہیریٹیج اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے شمال مغرب میں الجوف کے علاقے میں واقع شہر ’’سکاکا‘‘ میں آثار قدیمہ کے مقام الطویر کی کھدائی کے نتیجے میں 300 قبل مسیح سے لے کر 100 عیسوی تک کے دور سے تعلق رکھنے والے فن تعمیر کے مظاہر کی دریافت ہوئی ہے۔

ہیریٹیج اتھارٹی نے "ایکس" پر کہا کہ الطویر کے مقام پر آثار قدیمہ کی کھدائی کے منصوبے کے پہلے سیزن کا کام مکمل ہو گیا ہے۔

اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ آثار قدیمہ کی دریافتوں میں 2,300 اور 1,900 سال پہلے کے درمیانی عرصے سے متعلق تعمیراتی مظاہر شامل ہیں ۔ ایسے آبی ذرائع بھی دریافت ہوئے ہیں جو اس عرصہ میں زرعی سرگرمیوں میں کام آتے تھے۔ ایک عمارت کی باقیات بھی دریافت ہوئی ہے۔ امکانی طور پر یہ عمارت کسی مذہبی مقام کے دفاع کے لیے واچ ٹاور کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہوگی ۔ اتھارٹی نے بتایا کہ 2,300 سال قبل کے مٹی کے برتنوں کے علاوہ کانسی کے سکے اور پتھر کا برتن بھی دریافت ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں