’’میں دوبارہ اپنا بازو پکڑنا چاہتا ہوں‘‘ عضو کٹ جانے کے بعد فلسطینی بچے کی پکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دل دہلا دینے والے آنسوؤں کے ساتھ ایک دلخراش ویڈیو کلپ میں فلسطینی بچے کی پکار نے لوگوں کو رُلا دیا۔ فلسطینی بچے ابراہیم الداھوک کا نہ صرف گھر اسرائیلی بمباری میں منہدم ہوگیا بلکہ اس کے خاندان کے افراد بھی شہید ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ابراہیم الداھوک کا بازو بھی ضائع ہوگیا۔

ویڈیو میں 10 سالہ ابراہیم الداھوک نے دنیا اور مصری ریاست سے اپیل کی کہ اس کا پورا بازو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ بمباری کی وجہ سے اس کا بازو درمیان سے کٹ گیا تھا اور بازو کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا۔ 32 دنوں سے اس کے کٹے ہوئے بازو پرکھلا زخم موجود ہے اور زخم بھر نہیں رہا۔ فلسطینی ہسپتالوں کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے اس زخم کو درست کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں نے متنبہ کردیا ہے کہ اگر اچھی صحت کی دیکھ بھال نہ کی گئی اور صرف اڑتالیس گھنٹے میں زخم کا مناسب علاج نہ کیا گیا تو اس کا پورا بازو کاٹ دیا جائے گا۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابراہیم الداھوک کا مکمل ہاتھ کٹ جانے کے بعد اس کو متبادل مصنوعی اعضاء بھی نہیں لگایا جا سکے گا۔

بہتے ہوئے آنسوؤں اور شدید رونے کے ساتھ ابراہیم اپنے کٹے ہوئے بائیں بازو کو دیکھتے ہوئے کہ رہا ہے کہ میں علاج کرانا چاہتا ہوں۔ میں واپس جانا چاہتا ہوں اور اپنا ہاتھ دوبارہ پکڑنا چاہتا ہوں۔ میں یہ سب کھو دوں گا۔ ابراہیم نے مزید کہا کہ آرتھوپیڈک ڈاکٹر نے کہا ہے کہ باقی رہ جانے والے بازو کو بچانے کے لیے فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ زخمی بچے نے مزید کہا کہ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جنگ بند کردی جائے تاکہ ہم اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

سوشل میڈیا صدارفین کی بڑی تعداد نے اس دلخراش ویڈیو پر ہمدردی کا اظہار کیا۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس ویڈیو کو شیئر کیا جا رہا ہے۔ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ بچے کے ضروری علاج کے لیے کوششوں کو تیز کیا جائے۔ صارفین نے ابراہیم کو مصنوعی اعضا خرید کر دینے کی بھی اپیل کی۔

علاج کے لیے سفر

اس مہم کے بعد تین دن سے بھی کم عرصے میں فلسطینی صحافی ہانی ابو رزق نے اپنے انسٹاگرام پیج پر جمعرات کو اعلان کیا کہ بچے نے علاج کے لیے غزہ کی پٹی سے باہر کا سفر کیا ہے۔ ابراہیم علاج کے لیے غزہ کی پٹی سے باہر منتقل کئے جانے سے قبل ایک ایمبولینس کے اندر ایک ویڈیو میں نظر آیا۔

واضح رہے ابراہیم الداہوک کی کہانی ہزاروں المناک کہانیوں میں سے ایک ہے۔ سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے بمباری کرکے غزہ کی پٹی کے بڑے حصے کی عمارتیں ملیامیٹ کردی ہیں۔ 48 دنوں میں 14856 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 7000 فلسطینی لاپتہ ہیں جن کے متعلق خیال ہے کہ وہ جاں بحق ہوکر عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں۔ شہدا میں 69 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔ 36 ہزار فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ ان زخمیوں میں کتنے ہی افراد ابراہیم کی طرح مختلف اعضا سے محروم ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں