مشرق وسطیٰ

یرغمالیوں کے بدلے قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ تاخیر کے بعد دوبارہ ٹریک پر آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسرائیلی جیلوں سے فلسطینیوں اور حماس کے پاس یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدہ جنگ بندی اتوار کے اوائل میں دوبارہ ٹریک پر آتی نظر آ رہی ہے لیکن یہ تبادلہ ایک گھنٹے کی تاخیر سے ہوا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ جنگ بندی کس قدر نازک معاملہ ہے۔

تبادلے میں تاخیر ہفتے کی شام اس وقت ہوئی جب حماس نے اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جس سے سات ہفتوں کی جنگ میں پہلا اہم وقفہ آیا ہے۔ اس جنگ میں عشروں کے ہلاکت خیز دوطرفہ تشدد، غزہ کی پٹی میں وسیع تباہی اور نقلِ مکانی اور ایک یرغمالی بحران دیکھنے کو ملا جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حماس کے ساتھ ثالثی کرنے والے قطر اور مصر نے ہفتے کے آخر میں اگر یہ اعلان نہ کرتے کہ تبادلے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئیں ہیں تو معاہدہ کھٹائی میں پڑنے والا تھا۔ حماس نے 13 اسرائیلیوں سمیت 17 یرغمالیوں کو جبکہ اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

وسطی تل ابیب میں ہفتے کو دیر گئے ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے ہنگامے میں یرغمال بنائے گئے تمام 240 افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جس سے جنگ چھڑ گئی۔ انہوں نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انہیں واپس لانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

یرغمالیوں کے خاندانوں کی طرف سے دباؤ اور حملے کو روکنے میں اسرائیل کی ناکامی پر غصے نے ملک کے رہنماؤں کو درپیش مخمصے کو بڑھا دیا ہے کیونکہ وہ تمام اسیروں کو بحفاظت واپس لاتے ہوئے حماس کو ایک فوجی اور حکومتی طاقت کے طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔

جنگ پہلے ہی 1,200 سے زیادہ اسرائیلیوں کی جان لے چکی ہے جن میں زیادہ تر عام شہری حماس کے ابتدائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ حماس کے زیرِ قبضہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 13,300 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً دو تہائی خواتین اور نابالغ بچے تھے۔

جمعے سے شروع ہونے والی چار روزہ جنگ بندی قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں ہوئی۔ حماس کم از کم 50 اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیل 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ تمام خواتین اور نابالغ ہیں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ رہائی پانے والے ہر اضافی 10 یرغمالیوں کے لیے جنگ بندی میں ایک دن کی توسیع ممکن ہے لیکن اس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس کے ختم ہونے کے بعد فوری طور پر اپنا حملہ دوبارہ شروع کر دے گا۔

اسرائیل نے اتوار کے اوائل میں کہا تھا کہ اسے یرغمالیوں کی ایک نئی فہرست موصول ہوئی ہے جو بعد میں دن میں چار طے شدہ تبادلوں میں سے تیسرے میں جاری کی جائے گی۔

غزہ میں امداد اور مہلت

تؤقف نے غزہ کے 2.3 ملین لوگوں کو چند دنوں کا سکون عطا کیا ہے جو اب بھی مسلسل اسرائیلی بمباری سے دوچار ہیں جس نے تین چوتھائی آبادی کو بے گھر اور رہائشی علاقوں کو مسمار کر دیا ہے۔

غزہ کے مزاحمت کاروں کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ فائر بھی خاموش ہو گئے۔ شمالی غزہ جو جارحیت کا مرکز ہے، وہاں جنگ سے تھکے ماندے فلسطینی جنگ بندی کے دوران نقصان کا جائزہ لینے کے لیے سڑکوں پر واپس نکل آئے۔

غزہ اور اس کے اردگرد کے پورے شہر کے بلاکس فضائی حملوں سے ڈھیر ہو گئے ہیں جس نے عمارتوں کو کھوکھلا کر دیا اور گلیوں میں ملبے کا ڈھیر پڑے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ جنگ میں تؤقف نے لڑائی کے آغاز سے لے کر اب تک خوراک، پانی اور ادویات کی سب سے بڑی مقدار میں ترسیل کو ممکن بنایا ہے۔ یہ 129,000 لیٹر (تقریباً 35,000 گیلن) ایندھن فراہم کرنے میں بھی کامیاب رہا جو جنگ سے پہلے کی روزانہ ضرورت کا صرف 10 فیصد ہے نیز کھانا پکانے والی گیس جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار فراہم کی گئی ہے۔

امداد ایک ماہ میں پہلی بار شمالی غزہ تک بھی پہنچی۔ فلسطینی ہلالِ احمر نے کہا کہ 61 ٹرک خوراک، پانی اور طبی سامان لے کر ہفتے کے روز وہاں سے روانہ ہوئے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا کہ وہ اور فلسطینی ہلالِ احمر 40 مریضوں اور لواحقین کو غزہ شہر کے ایک اسپتال سے جنوب میں دوسرے ہسپتال میں منتقل کرنے میں کامیاب رہے۔

ہفتے کے روز یرغمالیوں کی رہائی کو روکتے ہوئے حماس نے الزام لگایا کہ امداد کی ترسیل توقع سے کم رہی اور یہ کہ شمال تک پہنچنے والی امداد کافی نہ تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل طویل عرصے سے قید کیے گئے قیدیوں کی کافی تعداد کو رہا نہیں کر رہا۔ کئی فلسطینی اسرائیل کے زیرِ حراست قیدیوں بشمول مہلک حملوں میں ملوث قیدیوں کو قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یرغمال خاندانوں کے لیے ایک تلخ وشیریں لمحہ

آدھی رات سے کچھ دیر پہلے حماس نے 13اسرائیلی اور چار تھائی باشندوں پر مشتمل یرغمالیوں کے دوسرے گروپ کو رہا کیا۔ انہیں مصر کے حوالے کر دیا گیا اور پھر اسرائیل منتقل کر دیا جہاں انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

حماس کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یرغمالی پریشان حال نظر آ رہے تھے لیکن زیادہ تر اچھی جسمانی حالت میں تھے جن کو نقاب پوش مزاحمت کار ریڈ کراس کی غزہ سے باہر جانے والی گاڑیوں کی طرف لے کر گئے۔ یرغمالیوں میں سے کچھ نے مزاحمت کاروں کو الوداع کیا۔ ایک لڑکی بیساکھیوں پر تھی اور اس کے بائیں پاؤں پلستر چڑھا ہوا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ ہفتے کے روز رہا کردہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سات بچے اور چھ خواتین شامل تھیں۔ زیادہ تر کا تعلق کبٹز بیری سے تھا جہاں حماس کے مزاحمت کاروں نے سات اکتوبر کو سرحد پار حملے کے دوران تباہی مچا دی تھی۔ بچوں کی عمریں تین سے 16 سال اور خواتین کی عمریں 18 سے 67 سال کے درمیان تھیں۔

کبٹز بیری کے رہائشیوں کے لیے یہ ایک تلخ و شیریں لمحہ تھا جو بحیرۂ مردار کے ایک ہوٹل میں رہ رہے ہیں جب سے ان کی برادری ختم ہو گئی ہے۔ کیبٹز کے ترجمان نے کہا کہ رہائی پانے والے تمام یرغمالیوں کے خاندان کا کوئی فرد یا تو سات اکتوبر کے ہنگامے میں ہلاک ہو چکا ہے یا کوئی عزیز غزہ میں بدستور قید ہے۔

مغربی کنارے میں ایک ہیرو کا سا استقبال

کچھ فلسطینی قیدیوں کو مشرقی یروشلم میں رہا کیا گیا جبکہ ایک بڑی تعداد مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے آبائی گھروں کو واپس پہنچی جن کا ہیرو کی طرح کا استقبال کیا گیا۔

رہائی پانے والوں میں نورحان عواد بھی شامل تھی جو 2016 میں 17 سال کی تھی جب اسے ایک اسرائیلی فوجی پر قینچی سے وار کرنے کی کوشش کے الزام میں ساڑھے تیرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یروشلم میں اسرائیلی فوجیوں نے اسراء جابیس کے گھر کے باہر جمع شدہ صحافیوں کو بھگا دیا جو بم حملہ کرنے کے جرم میں سزا پانے کے بعد 2015 سے قید تھیں جس میں ایک اسرائیلی پولیس افسر زخمی ہوا تھا اور جابیس کے چہرے اور ہاتھ شدید جھلس گئے تھے۔

جابیس نے بعد میں صحافیوں کو بتایا وہ "ایسے وقت میں خوش ہونے پر شرمندہ ہیں جب فلسطین زخموں سے چور ہے۔"

مغربی کنارے کے قصبے البیرہ میں تازہ رہائی پانے والے نوعمر لڑکوں کی مرکزی چوک میں پریڈ کی گئی جہاں انہوں نے فلسطینی پرچموں کے ساتھ ساتھ حماس کے سبز بینرز اور صدر محمود عباس کی الفتح پارٹی کے زرد بینرز بھی لہرائے۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب نامی ایک وکالت گروپ کے مطابق اسرائیل نے 7,200 فلسطینیوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے جن میں جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً 2,000 گرفتار کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں