’میں یہ بمباری بیٹی کے نام کرتا ہوں‘ اسرائیلی فوجی کی ویڈیو پر شدید عوامی ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی سات اکتوبر سے جاری جنگ کے دوران قابض فوج پر سنگین جنگی جرائم کے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں جہاں فوج نے جان بوجھ کو ایسے گھروں اور عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جن میں عام شہری، خواتین اور بچے جان سے گئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایک فوجی افسر کو ایک عمارت کو دھماکے سے اڑانے سے قبل یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ دھماکہ میں اپنی بیٹی کے نام کرتا ہوں‘۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والا یہ کلپ 271 ویں کمبیٹ انجینیرنگ بٹالین سے تعلق رکھنے والے ایک اسرائیلی میجر موشے گرنبرگ کا بتایا جاتا ہے۔

اس نے غزہ کے شمال میں جنگ بندی سے تھوڑی دیر قبل اس عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں متعدد خواتین اور بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔

دھماکے سے قبل اسرائیلی فوجی افسر کو ایک ویڈیو ریکارڈ کراتے اور یہ کہتے سنا جا سکتا ہے "میں یہ بم باری اپنی بیٹی ایلا کو اس کی دوسری سالگرہ کے موقع پر تحفے میں پیش کرتا ہوں‘‘۔

شرمناک طرز عمل

دریں اثنا اسرائیلی افواج کے اس ذلت آمیز اور غیر انسانی رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران غزہ کی پٹی میں تقریباً 60 فیصد عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر منہدم کر دیا۔

بعض صارفین نے اسرائیلی فوجی میجر کو "نفسیاتی اور اخلاقی مریض" قرار دیا۔

غزہ میں خونریز جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر بلا اشتعال بمباری کے بے شمار مناظر سامنے آئے ہیں۔

اسرائیل میں غزہ کی پٹی میں بمباری سے زخمی ہونے والے بچوں اور خواتین کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور بمباری سے ہونے والی اموات کو جھوٹا قرار دیا جاتا رہا ہے جس پر سوشل میڈیا حلقوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے نشر ہونے والے ایک گانے میں فلسطینی غزہ کی پٹی میں ہر کسی کو فنا کے گھاٹ اتارنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ اشتعال انگیز گیت اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے براہ راست نشر کیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سامنے آنے کے بعد اسے ہٹا دیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سات اکتوبر سے حماس کی جانب سے شروع کیے گئے اچانک حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر قیامت برپا کر رکھی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 5600 بچوں سمیت 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں