اسرائیل نے 1972ء میں لیبیا کے سفارتی مترجم کو کیوں قتل کیا؟

تاریخ کے جھروکوں سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایڈولف ہٹلر کے دور کا جرمنی ایک الگ تھلگ ملک تھا، 1936ء میں ایڈولف ہٹلر نے برلن میں ایک متنازع اولمپکس کا انعقاد کیا تھا، جس کا مقصد ”جرمن عظمت “ کا مظاہرہ تھا۔

جرمنی چاہتا تھا کہ وہ دنیا کو بتائے کہ 1936ء اور 1972ء کے جرمن میں کیا فرق ہے؟ لہذا 1972ء کے گرمائی اولمپکس کی میزبانی جرمن نے کی۔

ان کھیلوں میں اسرائیلی کھلاڑی بھی حصہ لے رہے تھے لہذا فلسطینی تنظیم ’’بلیک ستمبر‘‘ کے جنگجوﺅں نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا۔

منصوبے کے مطابق پانچ ستمبر 1972ء کی صبح چار بجے آٹھ فلسطینی جنگجوﺅں دو میٹر اونچی تاروں کی باڑ عبور کرتے ہوئے میونخ میں اسرائیل کھلاڑیوں کی رہائش گاہ کی جانب بڑھے۔ چار بج کر 25 منٹ پر حملہ آوروں نے ایک شاہ کلید کے ذریعے تالا کھولا اور اس مقام میں داخل ہو گئے جہاں پر اسرائیلی کھلاڑی رہائش پزیر تھے۔

زوئٹر کے قتل کے بارے میں ایک فلسطینی پوسٹر
زوئٹر کے قتل کے بارے میں ایک فلسطینی پوسٹر

اسی دوران جنگجوﺅں کی کھلاڑیوں کے ساتھ لڑائی ہوئی، جس میں دو اسرائیلی کھلاڑی ہلاک جبکہ ٹیم کوچ سمیت نو کھلاڑیوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔

بلیک ستمبر کے جنگجوﺅں نے ان کھلاڑیوں کو چھوڑنے کے بدلے 200 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بلیک ستمبر کے جنگجوﺅں نے یرغمالیوں کو شہر کے ایک ہوائی اڈے پر منتقل کر دیا۔ اسی دوران جرمن سکیورٹی نے انھیں بچانے کی کوشش کی جہاں پر قتل عام شروع ہو گیا۔

تصادم میں اسرائیلی اولمپک کمیٹی کے تمام نو ارکان اور مغربی جرمن پولیس کا ایک افسر ہلاک ہو گیا اور آٹھ میں سے پانچ مسلح افراد بھی مارے گئے۔

یورپ میں ایک ہی حملے میں گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت نے مغرب میں ہلچل مچا دی۔ اسرائیل بھی اس کے بعد آگ بگولہ ہو گیا۔
اسرائیل کی خاتون وزیر اعظم گولڈا میئر نے میونخ حملے کا بدلہ لینے کے لیے ”بلیک ستمبر“ تنظیم کے خلاف 1972ء میں آپریشن ”خدا کا غضب“شروع کیا۔

یہ آپریشن 1970 ءکی دہائی کے دوران اسرائیل کی طرف سے فلسطینی رہنماؤں کے خلاف سب سے بڑی قاتلانہ کارروائیوں میں سے ایک تھا۔ اس آپریشن کا مقصد ”بلیک ستمبر“ تنظیم کے عہدیداروں کا خاتمہ تھا کیونکہ اسرائیل کے 11 کھلاڑیوں کے قتل کا الزام اسی تنظیم پر تھا۔

آپریشن خدا کا غضب سے قبل اسرائیل نے آزادی فلسطین کی تحریکوں، الفتح، اور پی ایل او سے تعلق رکھنے والے بہت سے رہنماؤں کو نشانہ بنانے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی۔ میونخ آپریشن کے بعد اسرائیل نے موساد کی قیادت میں قاتلانہ کارروائیوں کو مزید تیز کردیا تھا۔

گولڈا میر کا پورٹریٹ
گولڈا میر کا پورٹریٹ

وزیر اعظم گولڈا میئر اور وزیر دفاع موشے دیان نے ایک میٹنگ خفیہ ایجنسی موساد کو ”بلیک ستمبر“ تنظیم کے ساتھ وابستہ یا حمایتی کسی بھی رہنما کو قتل کرنے کا ٹاسک دے دیا۔ جس کے بعد موساد نے ”خدا کا غضب“ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی اور اسرائیلی فوج کی خصوصی آپریشن ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

موساد نے جن شخصیات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ان میں سرفہرست وائل زوئٹر کا نام تھا۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی سمجھتی تھی کہ وائل زوئٹر نے بلیک ستمبر کے ساتھ مل کر ان کے کھلاڑیوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

وائل زوئٹر 1934ء میں نابلس میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ اپنی جوانی کے دنوں میں وہ عراق چلے گئے، جہاں اس نے عربی ادب اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔

بعد ازاں زوئٹر نے لیبیا کا سفر کیا جہاں اس نے عربی، فرانسیسی، انگریزی اور اطالوی زبانوں پر عبور رکھنے کی وجہ سے فلسطین کی آزادی کی تحریک کے نمائندے اور لیبیا کے سفارت خانے میں مترجم کے طور پر کام کیا۔ اس کے بعد زوئٹر اٹلی کے شہر روم چلے گئے، جہاں پر اس نے کئی مصنفین اور فنکاروں سے ملاقاتیں کی۔

اگست 1972ء کے دوران اطالوی پولیس نے وائل زوئٹر کو گرفتار کر لیا اور بلیک ستمبر کی تحریک سے اس کی مشتبہ وابستگی کی پاداش میں آئل ریفائنری پر کیے گئے حملے میں اس کے کردار سے متعلق پوچھ گچھ کی۔

دوسری جانب اسرائیلی موساد بھی اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ میونخ حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے زوئٹر کا نام مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا، لہذا 16 اکتوبر 1972ء کی صبح وائل زوئٹر روم میں ہنیل ایونیو کے خوبصورت علاقے میں اپنے اپارٹمنٹ کے قریب تھا کہ دو افراد نے قریب سے اس پر گولیوں کی بچھاڑ کر دی۔

اطالوی پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے وائل زوئٹر پر 11 گولیاں چلائیں جس وجہ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ موساد کے ہاتھوں وائل زوئٹر کے قتل نے اٹلی کے عوام میں غم وغصے کو جنم دیا، جس کے بعد اٹلی کے عوام احتجاج کرتے سڑکوں پر آ گئے۔

دوسری جانب تنظیم آزادی فلسطین کے عہدیداروں نے 1972ء کے میونخ حملے میں زوئٹر کے ملوث ہونے کی تردید کر دی جبکہ اطالوی کمیونسٹ پارٹی نے بھی اس قتل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بلا جواز جرم قرار دیا۔ اس کے علاوہ امریکی فلم ساز سٹیون سپیل برگ کی فلم ’’میونخ‘‘ کا مرکزی خیال بھی اسی واقعہ سے ماخوذ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں