دہائیوں سے چھڑیاں بنانے والے محمد الجابری جنہوں نے شوق کو پیشے میں بدل دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے محمد الجابری ایک منفرد شوق کے مالک ہیں اور وہ تین دہائیوں سے چھڑیاں بنانے کے ہنر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اگرچہ مرور زمانہ کے ساتھ چھڑی سازی کا فن دم توڑ رہا ہے مگر محمد الجابری نے کسی نا کسی شکل میں اسے زندہ رکھا ہوا ہے۔ جدید صنعتوں کے آنے کے بعد روایتی چھڑی سازی کا کلچر ختم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ مشینی آلات نے لے لی ہے۔

چھڑی بنانے کے ماہر محمد الجابری نے اپنی زندگی کے 30 سال چھڑی بنانے کے ہنر کی مشق کرتے ہوئے گزارے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے چچا سے یہ فن سیکھا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: "چھڑیاں بنانے کا ہنر مجھے وراثت میں ملا ہے۔ میرے چچا کو ہیزلنٹ کی لکڑی پر نقش ونگار بنانے کا فن بہت پسند تھا۔ میں نے اس پیشے کے رازوں کے بارے میں ان سے بہت کچھ سیکھا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے یہ شوق سنہ 1414ھ میں شروع کیا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک میں اپنے پسندیدہ مشغلے کو جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے آلات کی آمد سے اس ہنر کو تیار کرنا شروع کیا۔ یہ دستکاری میرا ذریعہ معاش بننے سے پہلے میرا جنون تھا "۔

محمد الجابر نے کہا کہ "وہ چھڑیاں جن پر بوڑھے لوگ ٹیک لگاتے ہیں اور لوک رقص کے دوران استعمال ہوتی ہیں۔ انہیں بہترین درختوں کی لکڑی سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان درختوں میں عتم کا درخت اور الظہیا کے درخت کے علاوہ سلم اور سمر کے درخت شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لاٹھیوں کی کئی قسمیں ہیں جن میں تین المشعاب، العطیف اور قطلا صماء زیادہ مشہور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں