قحط نے اہل غزہ کا گھیراؤ کرلیا، بعض کے پاس ایک دن کی خوراک باقی رہ گئی

غزہ میں قحط کی موجودگی کے بارے میں اعداد و شمار تشویشناک اور خوفناک ہیں: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بیماری اور قحط کا خطرہ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کا محاصرہ کر رہا ہے۔غزہ کی پٹی کے اندر بے گھر ہونے والے 17 لاکھ فلسطینیوں کو وبائی امراض کے بڑے پھیلاؤ کے خطرے کا سامنا ہے۔

مشرقی بحیرہ روم کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنظری کے الفاظ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ اعداد و شمار پریشان کن اور خوفناک ہیں کہ غزہ میں قحط پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر احمد المنظری نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ بات چیت میں نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی امداد بہت کم ہے اور کراسنگ کو بغیر کسی شرط کے کھولا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد آبادی اندرونی طور پر بے گھر ہو چکی ہے۔ تقریباً ایک ملین بے گھر افراد پٹی کے وسطی اور جنوبی حصوں میں 99 سہولیات میں مقیم ہیں۔ پناہ گاہوں میں صفائی کے ناقص حالات ہیں۔ زیادہ بھیڑ نے سانس کے شدید انفیکشن، جلد کی سوزش اور حفظان صحت سے متعلق حالات جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی پٹی میں سانس کے شدید انفیکشن کے 70,000 سے زیادہ کیسز اور اسہال کے 44,000 کیسز سے آگاہ کیا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کیسز کی تعداد مزید بڑھ جانے کا امکان ہے۔

جنوب میں پناہ گاہوں کے اندر جگہ کی شدید قلت ہے۔ کچھ بے گھر مردوں اور لڑکوں کو پناہ گاہوں سے باہر رہنا پڑ رہا ہے۔ کچھ نے سکول کے صحن یا سڑکوں کو رہائش گاہ بنایا ہے۔ کم درجہ حرارت کی وجہ سے انفکشنز کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر قحط اور خوراک کی کمی نے لوگوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غزہ کے باشندے زندہ رہنے کے لیے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں