منٹوں میں پہنچ کر جان بچانے والی ڈرون سروس متعارف

ڈرون سروس ’’ ای ٹو‘‘ دل کا دورہ پڑنے پر شخص کی جان بچانے میں کامیاب رہی

حقائق تصدیق ٹرینڈنگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سال 2021 میں سویڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے ایورڈرون کے ساتھ مل کر حقیقی دنیا میں ہارٹ اٹیک کے متاثرین کو ڈرون کے ذریعے ڈیفبریلیٹر فراہم کرنے کا تجربہ کیا تھا۔ حال ہی میں ایورڈرون نے ایمبولینس ٹیموں کی کوششوں کی حمایت کے لیے ایک کثیر مقصدی ڈرون کا اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلات ’’نیو اٹلس‘‘ نے شائع کی تھیں۔

سویڈش ہارٹ اینڈ لنگ فاؤنڈیشن کی مالی اعانت سے ایس او ایس الارم، واسٹرا گوٹالینڈ ریجن اور ایورڈرون کے اشتراک سے 2020 میں ڈیفبریلیٹرز کو ڈرون کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ ایمبولینس کے ساتھ ہی ہسپتال کے باہر دل کا دورہ پڑنے والے شخص کے لیے ڈرون بھیجا تھا۔

’’ ای ٹو‘‘ڈرونز کو 12 مرتبہ بھیجا گیا صرف ایک اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ یہ ڈرونز سات زمینی ایمبولینسز سے پہلے سائٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ حالانکہ ایمبولینس کے پہنچنے تک آلات استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ ان ڈرونز نے اوسط 3.1 کلومیٹرکا فاصلہ طے کیا تھا۔

اس نظام نے بعد میں 2021 کے آخر میں اپنی اہمیت ثابت کر دی جب ٹرولہٹن کے ایک 71 سالہ رہائشی کو اپنے ڈرائیو وے میں برف کو ہلاتے ہوئے دل کا دورہ پڑا۔ خوش قسمتی سے مریض کے گھر جاتے ہوئے ایمرجنسی فزیشن نے ایورڈرون سے رابطہ کرلیا۔ ایک خودکار بیرونی ڈیفبریلیٹر لے جانے والا ای ٹو ڈرون لانچ کیا گیا۔ یہ ڈرون ایمبولینس سے پہلے اس شخص تک پہنچ گیا اور اس کی جان بچانے میں کامیاب رہا۔

کثیر المقاصد E2 ڈرون کو حال ہی میں بیڑے میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہ کسی بھی قسم کے طبی سامان کی براہ راست ترسیل کرتا ہے۔ ہر موسم کا ڈرون ڈسٹریس کال موصول ہونے کے 15 سیکنڈ کے اندر تعینات کر سکے گا۔ ڈرون کی رفتار 23 میٹر فی سیکنڈ ہے اور اس کی آپریٹنگ رینج 8 کلومیٹر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں