ایک ماہ بعد ملبے تلے سے زندہ نکالی گئی بچی کی تصویر کی حقیقت سامنے آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہفتوں سے مسلسل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں منہدم مکانات کے ملبے تلے زندگی کی جھلک تلاش کرنے کے لیے کم سے کم ممکنہ ذرائع کے ساتھ کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک ایسی تصویر کو پھیلایا گیا جس کے پبلشرز نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک بچی کی تھی۔ یہ وہ بچی تھی جسے ایک ماہ بعد ملبے تلے سے زندہ نکال لیا گیا تھا۔

اس تصویر کو “ایکس” پلیٹ فارم، انسٹاگرام اور فیس بک پر سیکڑوں کمنٹس اور شیئرز ملے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے جس کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ تصویر ایک چھوٹی بچی کی ہے جو جنگ کے آغاز میں پیدا ہوئی تھی اور اسے ملبے کے نیچے سے تین گھنٹے بعد ہی نکال لیا گیا اور اس کی زندگی بچ گئی تھی۔

فلسطینی شہری دفاع کے ایک رکن نوح الشغنوبی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر انکشاف کیا کہ امدادی کارکن تین گھنٹے کے بعد اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اس کے خاندان کے گھر کے ملبے تلے سے بچی کو زندہ نکالنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اکاؤنٹ کے مالک نے اس کی بازیابی کے لمحے کی ویڈیو بھی پوسٹ کی۔

نوح نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی فیکٹ چیکنگ سروس کو بتایا کہ لڑکی کو تیس دن نہیں بلکہ تین گھنٹے ملبے تلے رہنے کے بعد بچایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچی کی عمر ایک ماہ سے بھی کم تھی جب اسے ملبے کے نیچے سے نکالا گیا اور اس کے پڑوسیوں نے اسے بچانے کے بعد طبی عملے کو اطلاع دی کہ وہ جنگ شروع ہونے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

نوح نے وضاحت کی کہ وہ سول ڈیفنس کے پیرامیڈیک ہیں اور فوٹوگرافر نہیں۔ تاہم میں نے غزہ میں صحافیوں کی کمی کی روشنی میں تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنا شروع کیے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ بمباری کے دنوں میں انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کی وجہ سے میں نے ویڈیو اور تصویر شائع کرنے میں دیر کردی۔

یاد رہے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے مطابق اس تصویر کی گردش غزہ میں ان 1,200 بچوں کے نقصان کی روشنی میں آیا ہے جن میں سے کچھ ممکنہ طور پر اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں