سعودی شال ’’ بشت حساوی‘‘ کی پیرس میں رونمائی، ہم اس کے متعلق کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس نے منگل کو پیرس کے ماحول میں ایکسپو 2030 کے میزبان ملک کے انتخاب کے لیے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ’’میڈیا نخلستان‘‘ کے مہمانوں کو ایک تحفہ پیش کیا۔ یہ تحفہ سعودی کاریگروں کی جانب سے سردی کے لیے بُنی ہوئی شال ’’ بشت حساوی‘‘ تھی۔

شال ’’ بشت حساوی‘‘کو سنہری زری دھاگوں کی کڑھائی اور ایک بروکیڈ سجاوٹ سے سجایا گیا ہے۔ اس کے کناروں پر پھیلی ہوئی ہے، جو سعودی روایتی دستکاری اور ملبوسات کی خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ پرتپاک شاہی استقبال اور اس موقع پر اس کو بطور تحفہ دینے سے اس کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ عالمی ثقافتی ورثے کے اندر "بشت حساوی" دستکاری کے ثقافتی ورثے کو پھیلانے میں سعودی عرب کی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے۔

بشت حساوی کیوں؟

قدیم زمانے سے مشرقی سعودی عرب میں الاحساء مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خلیج اور عرب دنیا میں ثقافتی اور سماجی علامت کے طور پر پیش ہونے والے’’ بشت حساوی‘‘ کی بُنائی اور کڑھائی کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

اس لیے الاحساء کی یہ شال ہمیشہ مقامی اور بین الاقوامی فورمز میں موجود رہتی ہے۔ یہ شال اپنی کاریگری، درستی اور مہارت اور جمالیاتی لمس کے حوالے سے ممتاز اور مشہور ہے۔

البشت الحساوی
البشت الحساوی

رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس قومی تشخص کو اجاگر کرنے اور سعودی روایتی فنون کو تقویت دینے کے لیے ایک سرکردہ ادارہ ہے۔ یہ یہ روایتی فنون اور متعلقہ فنکارانہ کاموں کے بھرپور اور منفرد ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم رہتا ہے۔ یہ ادارہ سعودی ثقافت کی نمائندگی کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں