میرج ہالز چھوڑ کر سعودی شہری کا روایتی ’’خیمہ‘‘ میں شادی کی تقریب کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حالیہ دور میں نئی سماجی تبدیلیوں اور جدید طریقوں کو ترک کرکے اور میرج ہالز کی دستیابی کے باوجود کسی کا ’’ شعر کے گھر‘‘ یا خیمے میں شادی کرنا نایاب ہو چکا ہے۔

تاہم سعودی شہری جابر الساکت نے مشرقی سعودی عرب میں حفر الباطن گورنری میں اپنے بیٹے محمد کی شادی اپنے طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ’’شادی محلات‘‘ کی پریشانی لئے بغیر فیصلہ کیا کہ ان کے بیٹے کی شادی گھر کے سامنے ہی خیمہ لگا کر کی جائے گی۔ یہ روایتی خیمہ ہے جسے ’’ بیت الشعر‘‘ کہا جاتا ہے۔ خیمے کا استعمال شادی کی تقریبات کے بوجھ کو کم کرنے کے تناظر میں بھی کام دیتا ہے۔ ان اخراجات میں کمی خاص طور پر شادی شدہ زندگی کے آغاز میں زیادہ فائدہ دیتی ہے۔

الساکت نے اپنے گھر کے سامنے ’’شاعری کا گھر‘‘ بنایا جس میں گورنریٹ کے اندر اور باہر کے خیر خواہ مہمان جمع ہوتے تھے۔ اس خیال کو علاقے کے بزرگوں نے سراہا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ شادی کے معاملے میں ایک خاص سادگی اور محبت کی کمی دیکھی جارہی ہے۔ اس دور میں سادگی سے بھرے لمحات میں کمی آتی جارہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جابر الساکت نے کہا کہ درحقیقت میں نے شادی ہالز کی دستیابی کے باوجود اپنے بیٹے محمد کی شادی گھر کے سامنے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میں بلاجواز اخراجات کو کم کرنا چاہتا تھا۔ مجھے ان بابرکت لوگوں کی طرف سے وسیع حمایت اور خیرمقدم ملا جنہوں نے اس اقدام کی تعریف کی۔ کچھ افراد نے تو کہا کہ وہ بھی آئندہ تقریبات اسی طرح منعقد کریں گے۔

جابر الساکت نے نشاندہی کی کہ کچھ شادیوں پر چند گھنٹوں کے لیے ہال کے استعمال پر 2 لاکھ سعودی ریال تک لاگت آجاتی ہے۔ اسے اسراف بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسی لئے میں نے اس کم خرچ طریقے کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔

اسی تناظر میں خاندانی اور سماجی مشیر عبداللہ البقعاوی نے وضاحت کی کہ مہنگی شادیوں کے نتیجے میں اخراجات میں بڑے اضافے کے اثرات بینکوں کے قرضوں میں نمایاں ڈیفالٹ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں