سعودی عرب کا 73 فیصد رقبہ ’’ چراگاہوں‘‘ پر مشتمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن ڈیولپمنٹ اینڈ کامبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن نے وضاحت کی کہ سعودی عرب میں پودوں کے مقامات کے تین علاقے ہیں۔ یہ علاقے پہاڑوں، صحراؤں اور وادیوں کی صورت میں ہیں۔ یہاں پائے جانے والے قدرتی پودوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چراگاہوں کا رقبہ 146 ملین ہیکٹر تک ہے۔ یہ سعودی رقبہ کے 73 فیصد کے برابر ہے۔ جنگلات کا رقبہ 27 لاکھ ہیکٹر ہے جو سعودی رقبے کا 1.35 فیصد بنتا ہے۔

مرکز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ زرعی نباتات سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں زرعی علاقے اور کھیتوں میں ہیں۔ شہری نباتات وہ ہیں جو شہروں میں پائی جاتی ہیں۔

ریت کی تجاوزات

پودوں پر ریت کے تجاوزات کی نگرانی کے اثرات کے بارے میں مرکز نے کہا کہ ریت کی تجاوزات کی نگرانی کے لیے مناسب طریقہ کار اور ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ریموٹ سینسنگ یا فیلڈ مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ سڑکوں، رہائشی علاقوں، زرعی زمینوں اور قدرتی چراگاہوں میں ریت کی تجاوزات اور ہوا کے کٹاؤ کے سب سے زیادہ خطرے والے مقامات کا تعین کیا جاتا ہے۔

مرکز کے مطابق اس سے پودوں کے احاطہ کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے جس کے نتیجے میں ہوا اور پانی سے ریگستانی اور مٹی کے کٹاؤ کو روکا جاتا ہے۔ اسی طرح ریت اور دھول کے طوفانوں کو کم کرنے، مٹی کے قدرتی، کیمیائی اور حیاتیاتی خواص کو بہتر بنانے، آبی وسائل کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ریموٹ سینسنگ تکنیک سب سے اہم جدید ٹولز میں سے ایک ہے جو سیٹلائٹ ویژول اور ڈرون امیجز کے تجزیہ کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمینی انحطاط کی نگرانی میں استعمال ہوتی ہے۔

ریموٹ سینسنگ تکنیک مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کا بھی استعمال کرتی ہے۔ بڑے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے، ریگستان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور خطرے والے علاقوں میں خشک سالی کی پیش گوئی کرنے کے ماڈل تیار کرنے کے لیے ریموٹ سینسنگ تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پودوں کے مقامات کی حفاظت

مرکز پودوں کی مقامات کی حفاظت اور نگرانی اور خراب ہونے والی جگہوں کی بحالی کے لیے کام کرتا ہے۔ پودوں کے احاطہ میں ہونے والی خلاف ورزیوں کا پتہ لگاتا ہے۔ غلط اور نقصان دہ رویوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ یہ مقابلہ مرکز کی جانب سے شروع کی گئی آگاہی مہم کے ذریعہ بھی کیا جاتا ہے اور قوانین و ضوابط توڑنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی صورت میں بھی کیا جاتا ہے۔ چراگاہوں، جنگلات اور قومی پارکوں کا استحصال روکنے اور سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں