اسرائیلی بمباری کےسائے میں علم کا چراغ روشن کرنےوالے بہادر استاد طارق العنابی سے ملیے

رفح کےعلاقے میں ایک پناہ گزین کیمپ میں اسکول کی کلاس شروع کی۔ انہوں نے اسکول کی کلاس کے لیے چندے سے بورڈ اور چاک حاصل کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں ہر طرف خوف اور موت کا عالم ہے۔ اسکولوں اور ہسپتالوں جیسی عوامی سہولیات بھی محفوظ نہیں ہیں۔

اسرائیلی بمباری کے ایسے خوفناک ماحول میں بھی ایک بہادر فلسطینی نوجوان نے بچوں کو پڑھانے اور اپنے وطن فلسطین سے محبت کا درس دینا شروع کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر فلسطینی انگریزی کے استاد طارق العنابی نے ایک اسکول جوغزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والوں کو پناہ دینے کے لیے مرکز میں تبدیل ہو چکا تھا کے گودام سے کرسیاں نکالیں اور ایک کلاس روم کا منظر بنا کر بے گھر بچوں کو پڑھانا شروع کردیا۔

غزہ کی پٹی میں بسنے والے اس وقت موت کے خوف میں مبتلا ہیں، مگر طارق العنابی نے جو ایک اسکول ماسٹرہیں نے بے گھر ہونے والے فلسطینی بچوں کے لیے علم کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پھول جیسے معصوم بچے جن کے ہزاروں ہم عمر تباہ کن اسرائیلی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں اپنے استاد کے گرد حلقہ بنا رکھا ہے۔

طارق العنابی غزہ کے سرحدی علاقے رفح میں قائم اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ’اونروا‘ کے زیر اہتمام اسکول میں ہیں جہاں انہوں نے چندہ جمع کرکے بورڈ اور چاک خرید کی ہیں۔

اپنے پہلے سبق میں 25 سالہ معلم نے بچوں کو جو ابتدائی اور مڈل اسکول میں ہیں انگریزی میں "I love Palestine" جیسے جملے لکھنے کو کہا۔

العنابی اور ان بچوں کی زندگی اس وقت الٹ گئی جب 7 اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کردیا تھا۔

جنگ کی وجہ سے اسکولوں کا پورا نظام زندگی درہم برہم ہوچکا ہے۔ اسکولوں میں پناہ لینے والے بے بس فلسطینیوں کو بھی امان نصیب نہیں۔ قابض فوج ان پر بھی بموں کی بارش کرتی ہے۔ اس وقت غزہ کی پٹی کے تئیس لاکھ فلسطینیوں میں سترہ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں