سعودی موقف نےبتا دیا کہ ہم اکیلے نہیں، ریاض ہمارے ساتھ ہے: فلسطینی سفیر

فلسطین کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر سعودی کردار بہت اہمیت کا حامل رہا: باسم الآغا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں فلسطینی سفیر باسم الآغا نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا سفارت خانہ غزہ جنگ میں پھنسے اپنے ان شہریوں کی واپسی کے لیے قابل ذکر کوششیں کر رہا ہے جن کے پاس سعودی عرب میں ریزیڈنسی ویزا موجود ہے۔ اس حوالے سے رابطے جاری ہیں۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ساتھ ایک طویل گفتگو میں سفیر نے فلسطین کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز میں سعودی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پر سعودی عرب کے موقف سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب نے عرب اور اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ جو کچھ جاری کیا گیا وہ بیانات کے تناظر میں نہیں تھا بلکہ سیاسی پوزیشن لی گئی تھی۔ اس اجلاس میں فلسطین کی حمایت کی گئی اور جنگ کو "اسرائیلی جارحیت" سے تعبیر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا موقف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں بلکہ ریاض سچائی، انصاف، بین الاقوامی قانونی حیثیت، بین الاقوامی قانون اور عرب امن اقدام میں ہمارے ساتھ ہے۔

باسم الآغا نے نے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو کہا ہے کہ سعودی عرب اور فلسطین اس وقت تک ایک ہاتھ ہیں جب تک کہ فلسطین ایسی آزاد ریاست نہیں بن جاتا جس کا دارالحکومت القدس ہو۔

سعودی عرب میں فلسطین کے سفیر باسم الآغا
سعودی عرب میں فلسطین کے سفیر باسم الآغا

انہوں نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی طرف سے کئے گئے سفارتی اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا یہ اقدامات عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں طے پانے والے معاہدے کا ترجمہ ہیں۔ اس سے فلسطین کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے اور دنیا کو فلسطین کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا معلوم ہوجاتا ہے۔

باسم الآغا نے غزہ سے متعلق اسرائیلی منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ غزہ شہر کے مکینوں کو مصر کے صحرائے سینا میں بے دخل کرنے کا پروجیکٹ ہے۔ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے جسے ’’ ایگور آئی لینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سینا میں غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور مصر کو صحرائے نقب کا ایک حصہ معاوضے کے طور پر دینے کی پیش کی گئی۔ نقب کا رقبہ 730 مربع کلومیٹر ہے۔ اسی طرح مستقبل میں مغربی کنارے میں رہنے والوں کو یا تو اردن منتقل کیا جائے گا یا سینا میں ہی بھیجنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ یہ جگہ فلسطینیوں کا وطن بن جائے۔

فلسطینی سفیر کی رائے کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مسئلہ فلسطین کو ختم کرنا اور فلسطین اور مصر کے درمیان تصادم پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے "ایگور آئی لینڈ" کے تناظر میں مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ اور قابض ممالک دونوں فریقوں کو خونریزی پیدا کرنے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ سوڈان میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔

فلسطینی سفیر باسم الآغا نے اپنی تقریر میں تاریخ کے اوراق کی طرف لوٹتے ہوئے فلسطین کی سرزمین کو سعودی اور فلسطینیوں کے خون سے ملانے والی سرزمین قرار دیا۔ انہوں نے یاد کرایا کہ 600 کے قریب سعودی افراد کو فلسطینی سرزمین پر شہید کیا گیا تھا۔

باسم الآغا نے کہا کہ سعودی فوج اور سعودی رضاکاروں نے فلسطین کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس حوالے سے شہید مجاہد رہنما فہد المارک کو بھی نہیں بھلایا جا سکتا ۔ یہ وہ رہنما تھے جنہیں سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز نے 1948 میں القدس کا دفاع کرنے کے لیے فلسطین بھیجا تھا۔

فلسطینی سفیر باسم غزہ کی پٹی کے لیے سعودی عرب کی امدادی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کنگ سلمان ریلیف سنٹر نے فلسطینی عوام کے لیے 150 ملین ریال مالیت کا امدادی سامان بھیجا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں