سال 1889: پیرس نے تاریخ کی عجیب ترین بین الاقوامی نمائشوں کی میزبانی کی

عالمگیر نمائش کے شرکا ایفل ٹاور اور نووا نمائش کے نسلی تھیم والے حصے کو دیکھ کر حیران رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سپین کے شہر بارسلونا میں ہونے والے یونیورسل میلے کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس نے 5 مئی سے 31 اکتوبر 1889 کے درمیان اپنے عالمی میلے کی میزبانی کی جس میں اس وقت تقریباً 29 ملین زائرین نے شرکت کی۔ اس وقت پیرس میں عالمگیر نمائش کا یہ ایڈیشن فرانسیسی انقلاب کی سو سال کی مناسبت سے تھا۔ یہ تاریخ کی ایک یادگار نمائش تھی۔ فرانس نے اسی سال ایفل ٹاور کو باضابطہ طور پر کھولا۔ ایفل ٹاور کی تعمیر میں دو سال لگے تھے اور اس کی ظاہری شکل نے دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا تھا۔

عالمی نمائش کا بائیکاٹ

سرکاری طور پر اس کانفرنس میں ارجنٹائن، اندورا، بولیویا، چلی، ریاستہائے متحدہ امریکہ، یونان، کوسٹا ریکا، ہیٹی، ڈومینیکن ریپبلک، ہوائی، ہنڈراس، جاپان، مراکش، میکسیکو، موناکو سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دوسری طرف ناروے، فارس، ایل سلواڈور، سربیا، جنوبی افریقہ، یوراگوئے، سوئٹزرلینڈ، وینزویلا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ملکوں نے پیرس میں ہونے والے عالمی میلے کا بائیکاٹ کر دیا۔ بائیکاٹ کرنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ انقلاب فرانس کی صد سالہ تقریبات کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں برطانیہ، جرمنی، ہالینڈ، آسٹریا، سپین، بیلجیم، پرتگال، روس اور سویڈن شامل تھے۔

بائیکاٹ کی رکاوٹ پر قابو پانے کی امید میں فرانس نے ان بائیکاٹ شدہ ممالک میں صنعتی شعبے کے متعدد فنکاروں اور ماہرین کو خصوصی دعوت نامے بھیجے۔

متنازعہ نمائش

ذرائع کے مطابق پیرس میں یونیورسل ایگزیبیش کی جگہ تقریباً 96 ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اسے چیمپ-ڈی-مارس سکوائر اور ٹروکاڈیرو محل کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا۔ ان علاقوں نے صنعت اور فن کے میدان میں پرفارمنس کی میزبانی کی۔ دوسری طرف پیلس آف انویلائڈز کے قریب مقامات نے کالونیوں اور فرانسیسی وزارت جنگ کے لیے وقف نمائشوں کی میزبانی کی۔

پیرس میں 1889 میں منعقد عالمی نمائش کا  منظر  ۔ ایک

ایفل ٹاور مارچ 1889 کے اواخر میں کھولا گیا تھا۔ یہ سب سے نمایاں چیز تھی جس نے وہاں موجود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس فرانسیسی تاریخی نشان کو اس وقت کے فرانسیسیوں نے اپنے ملک کی سائنسی اور صنعتی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا تھا۔ پیرس میں عالمی میلے کے اختتام تک ایفل ٹاور کو دیکھنے تقریباً 20 لاکھ زائرین آئے جو اس کے ڈیزائن کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

ایک منفرد تقریب میں پیرس میں یونیورسل نمائش میں کالونیوں کے لیے وقف ایک سیکشن شامل کیا گیا تھا۔ اس وقت فرانس نے دو اہم مقاصد کے لیے کالونیوں کے لیے ایک حصہ مختص کرنے کو ترجیح دی۔ ایک تو فرانسیسیوں نے اپنی عالمی حیثیت کو ثابت کرنے کی امید میں باقی نوآبادیاتی طاقتوں کو اپنی استعماری سلطنت کی طاقت ثابت کرنے کی کوشش کی۔ دوسرا فرانسیسی حکام نے اس اقدام سے اپنے شہریوں میں حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے کی کوشش کی تھی۔

ناقص ڈیزائن کے باوجود کالونیوں کے لیے مختص حصے نے حاضرین میں تجسس پیدا کردیا۔ حاضرین دنیا بھر کی فرانسیسی کالونیوں سے لائی گئی اشیا کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پیرس میں یونیورسل نمائش کے نوآبادیاتی حصے پر نسل پرستانہ کردار کا غلبہ رہا۔ اس عرصے کے دوران فرانسیسی زبردستی بہت سے لوگوں کو اپنی کالونیوں والے حصہ میں لے آئے تاکہ انہیں زائرین کے سامنے اس انداز سے دکھایا جائے گویا یہ ایک انسانی چڑیا گھر ہے۔ اس نمائش کے ذریعے فرانسیسیوں نے تہذیبی مشن کی اپنی اصطلاح کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جسے وہ دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں