غزہ جنگ کیلئے امریکہ نے اسرائیل کو 100 بنکر بسٹر کم اور دسیوں ہزار دیگر ہتھیار دئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو غزہ میں حماس کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے 100 بنکر بسٹر بم اور دسیوں ہزار دیگر ہتھیار فراہم کیے ہیں۔

اخبار نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کو BLU-109 وار ہیڈ کے ساتھ بنکر بسٹر بم فراہم کیے گئے تھے۔ یہ بم پھٹنے سے پہلے کنکریٹ میں گھسنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کو 15000 بم اور 57000 توپ خانے کے گولے بھی دئیے گئے۔ اضافی ہتھیار اور گولہ بارود کی فراہمی کا عمل حماس کے اسرائیل پر حملے کے فوراً بعد شروع کردیا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکہ جس نے غزہ جنگ سے پہلے ہی خطے میں اپنے اہم ترین اتحادیوں کو ہتھیار فراہم کر رکھے ہیں نے اس سے قبل اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں کی تعداد یا بنکر بسٹر بموں کی تعداد ظاہر نہیں کی تھی۔

سیکڑوں ملین ڈالر کا گولہ بارود اور ہتھیار امریکہ سے ’’ سی 17‘‘ فوجی کارگو طیاروں پر تل ابیب پہنچایا گیا۔ ہتھیاروں کی اتنی بڑی مقدار میں فراہم بائیڈن انتظامیہ کو درپیش سفارتی چیلنج کو بھی آشکار کر رہی ہے کیونکہ امریکہ دوسری جانب اسرائیل کو یہ بھی کہ رہا ہے کہ وہ لڑائی کے دوران عام شہریوں کی اموات کو روکے۔

امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو جو جنگی سازوسامان منتقل کیا گیا ہے ان میں 5,000 سے زیادہ Mk82 طرز کے غیر گائیڈڈ بم، 5400 Mk84 طرز کے 2000 پاؤنڈ وزنی بم، ایک ہزار GBU-39 طرز کے چھوٹے قطر کے بم اور 3000 غیر گائیڈڈ سے سمارٹ گائیڈڈ تک کے بم شامل ہیں۔

امریکی حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے پوری جنگ کے سب سے خونریز حملوں میں سے ایک میں ایک بڑے پے لوڈ کے ساتھ امریکی فراہم کردہ بم کا استعمال کیا۔ یہ حملہ جبالیا کیمپ پر کیا گیا تھا اور اس میں 100 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ اس حملے میں حماس کا ایک رہنما بھی جاں بحق ہوا۔

تازہ ترین پیشرفت میں القسام بریگیڈز نے اعلان کیا کہ انہوں نے غزہ کی پٹی کے قصبے ’’ ماغین‘‘ کے مشرق میں اسرائیلی فورسز کو راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی چھاپوں نے جنوب میں خان یونس میں قصبے ’’ حمد‘‘کو نشانہ بنایا۔

اڑتالیس دن کی لگاتار لڑائی، سات دن کی جنگ بندی اور دوبارہ دو دن کی لڑائی پر مشتمل 57 دنوں کی جنگ میں فلسطینی شہدا کی تعداد 15 ہزار 207 اور زخمیوں کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جنگ کے 56 ویں اور 57 ویں دن کے دوران نئی سرے سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 240 فلسطینی جاں بحق اور 650 زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ان دو دنوں میں اس نے 400 سےزیادہ اہداف پر حملے کئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں