امریکہ: فائرنگ میں زخمی فلسطینی نوجوان سے متعلق نئی ٹویٹ اور تصویر آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ میں 20 سالہ فلسطینی نوجوان ہشام عورتانی کو گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایک غدار نے گولی مار دی تھی۔ یہ گولی ہشام عورتانی کی کمر میں لگی۔ یہ حملہ اچانک اس وقت کیا گیا جب ہشام اپنے دو دوستوں کے ساتھ امریکہ کے شہر ورمونٹ کی ایک سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا۔ چالیس کی دہائی میں ایک شخص نے ان پر فائرنگ کردی۔ زد میں آکر ھشام کی زندگی تباہی کے دہانے پر آگئی ہے۔ اس کے دو ساتھی تحسین احمد اور کنان عبد الحمید بظاہر بچ گئے ہیں۔
اس معاملے میں تازہ ترین پیش رفت میں باسل عورتانی نے انکشاف کیا کہ اس نے گزشتہ ہفتہ برلنگٹن میں اپنے کزن ہشام اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ گزارا ہے۔ یہ دونوں دوست زخمی ہونے کے بعد صحت یاب ہو گئے ہیں۔
باسل عورتانی نے تصدیق کی کہ ہشام کی چوٹ نے ان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اتوار کو ’’ ایکس‘‘ پر لکھا کہ جب میں بہتر نتائج کی دعا کر رہا تھا تو پتہ چلا کہ ہشام کی چوٹ نے اس کی زندگی بدل ڈالی ہے اور اب وہ سینے سے نیچے تک مفلوج ہو گیا ہے۔ ہشام کے آگے ایک طویل سفر ہے۔


باسل عورتانی نے وضاحت کی کہ بیس سالہ نوجوان کی مدد اور درد کے اس سفر میں اس کا ساتھ دینے کے لیے ایک عطیہ مہم شروع کی گئی ہے۔ باسل نے کہا کہ ہشام کا اس واقعے سے نمٹنے کا طریقہ بالکل حیرت انگیز ہے۔ ھشام نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ناممکن کو ممکن کر دے گا۔
ایک 48 سالہ شخص جیسن جے ایٹن نے دو ہفتے قبل تین طالب علموں پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ فیئرمونٹ کی نارتھ پراسپیکٹ سٹریٹ پر فلسطینی لباس پہن کر عربی بول رہے تھے۔ اچانک ہشام اور اس کے ساتھیوں کنان اور تحسین پر گولیاں چل گئیں۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

Advertisement
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں