بڑی تعداد میں مسلمان اور یہودی آباد، غزہ جنگ سے فرانسیسی شہر مارسیلی میں تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس کے شہر مارسیلی کے مرکز میں آپ تقریباً یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ ایک ایسے یورپی ملک میں ہیں جہاں بڑی تعداد میں ریسٹورینٹس، کیفے، کپڑوں اور سونے کی ایسی دکانیں ہیں جن کی ملکیت مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے تاجروں کے پاس ہے۔ ان تاجروں میں اکثر عرب ہیں جن کا تعلق الجزائر اور مراکش سے ہے۔ اس کے علاوہ ترکی، عراق، لبنان، مصر، تیونس اور شام کے دیگر تاجر بھی اس شہر میں کام کر رہے ہیں۔

تاہم یہ تمام تجارتی مراکز غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں۔ غزہ کی جنگ پر لوگوں کی متضاد آراء کی وجہ سے عرب تاجروں کا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ مارسیلی میں ایک وہ لوگ ہیں جو اسرائیل کے خلاف کھڑے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

سینٹ چارلس ٹرین سٹیشن کے قریب اور ساحلی فرانسیسی شہر کے وسط میں لا کینبیر اور گیمبیٹا سڑکوں پر عربوں اور دیگر مسلم کمیونٹیز کے بہت سے ریسٹورینٹس، کیفے اور دکانیں ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آئے روز مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ مظاہرے اسرائیل کی مخالفت اور حمایت میں ہو رہے ہیں اور فسادات کے خدشات بڑھا رہے ہیں۔

ہنگامہ آرائی

مارسیلی کی مشہور لا کینبیرسٹریٹ پر واقع ایک ترک ریستوراں کے مالک نے بتایا کہ ہم فلسطینیوں یا اسرائیل نواز مظاہروں کی وجہ سے ریسٹورنٹ کو بند کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں طرح کے مظاہروں کے شرکا ریسٹورنٹ کے سامنے سے گز رہے تھے۔ ریسٹورنٹ کا مرکزی دروازہ فلسطین کے حامیوں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والوں کے درمیان لڑائی کے دوران تباہ کردیا گیا۔

ریسٹورینٹ کے مالک نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں مزید کہا کہ ہمارا ریسٹورنٹ ہفتے کے آخر میں ایک بڑی مانگ کو دیکھتا ہے لیکن ایک ہی وقت میں ہونے والے مظاہرے ہمارے کام کی پیش رفت کو منفی طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب مظاہرے شروع ہوتے ہیں تو ہمیں ریسٹورنٹ کو بند کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو مہینوں میں ہماری آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

لا کینبیرسٹریٹ پر زیادہ تر دکانیں، سٹورز، ریسٹورینٹس اور کیفے مظاہرے شروع ہونے پر فرانسیسی پولیس کی جانب سے وسیع تحفظ سے لطف اندوز ہوتے ہیں تاہم ان میں سے کچھ پر حملوں کو اس وقت نہیں روکا جا سکتا جب حملہ آوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عرب یا ترک شخص کی ملکیت ہیں۔

سب سے بڑی مسلم کمیونٹی

ان دکانوں کے مالکان کی ایک بڑی تعداد نے تصدیق کی کہ مارسیلی میں فرانس کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی موجود ہے۔ مظاہروں کے دوران ہونے والی لڑائیوں نے تجارتی سرگرمیوں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ کچھ حملے اس وقت ہمارے سٹورز کو نشانہ بناتے ہیں جب اسرائیل کے حامی مظاہرے ہوتے ہیں۔ اسرائیل کے حامی انتہا پسند ہمارے سٹور فرنٹ کو توڑ دیتے ہیں۔

ایک اور الجزائری ریسٹورنٹ کے مالک کے مطابق جب فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے ہوتے ہیں تو عربوں کی دکانوں پر بھی حملے ہو سکتے ہیں۔ اس دوران فلسطین کے حامیوں اور اسرائیل کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہو سکتی ہیں۔

سب سے زیادہ یہودی

اس شہر میں فرانس کی سب سے بڑی یہودی برادری بھی آباد ہے جو اسے مسلسل جھڑپوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر اس شہر میں آباد یہودیوں میں اسرائیل کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں