تاریخ کی قدیم ترین قبر کیا مصر میں ہے؟

تحقیق سے ثابت ہوا کہ دعویٰ بے بنیاد ہے، "آوسیرس" اصل میں ایک افسانوی کردار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج کے اس دور میں بارہا کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر چیز سچ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر غلط اطلاعات کے حوالے سے مثالیں آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں۔

ان مثالوں میں مصر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے گردش کرنے والی پوسٹس ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا کا سب سے قدیم دریافت شدہ مقبرہ مصر میں واقع ہے۔ یہ "آوسیرس" کا مقبرہ ہے۔

تاہم تحقیق و تفتیش کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق جن کی رائے ایجنسی فرانس پریس فیکٹ فائنڈنگ سروس نے لی "آوسیرس" اصل میں ایک افسانوی شخصیت ہے جس کا تاریخی طور پر کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

"آوسیرس" کے مقبرے کو قدیم ترین قبر قرار دینے والے فیس بک پوسٹ پر سینکڑوں افراد نے رد عمل کا اظہار کیا۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ قدیم مصری دیوتا "آوسیرس" کی قبر "تاریخ کی قدیم ترین قبر" ہے اور یہ مصر میں واقع ہے۔

ماہر آثار قدیمہ احمد ابراہیم جو سوہاگ گورنریٹ میں ابیڈوس آرکیالوجیکل زون کے جنرل انسپکٹر ہیں نے اس پوسٹ میں بیان کردہ ہر چیز کی درستی سے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "آوسیرس" مندر میں پہلی جگہ اوسیرس دیوتا کا کوئی مقبرہ نہیں ہے کیونکہ وہ اصل میں ایک افسانوی شخصیت ہے۔ مندر کا نام اس افسانوی کردار کے نام سے لیا گیا ہے اور شاید اسی لیے مندر کے اندر اس کی قبر کی موجودگی کے بارے میں افسانے پھیل رہے ہیں۔

احمد ابراہیم نے نشاندہی کی کہ یہ اشاعت مصری تاریخ کے بارے میں فرضی کہانیاں ایجاد کرنے اور ردعمل کو جمع کرنے کے مقصد سے پیش کی گئی۔ اس پوسٹ کو تصویروں کے ساتھ پرکشش انداز میں تیار کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر کوئی حقیقی محقق یا سائنسدان ایسا نہیں ہوتا جو رائے کو یقین کے ساتھ بیان کرتا ہو۔ یہ یقینی بات نہیں ہوتی کہ کوئی خاص دریافت تاریخی طور پر قدیم ترین ہو کیونکہ تحقیق اور دریافت ایک مسلسل عمل ہے۔

آثار قدیمہ کے محقق محمد حامد درویش جو کہ قاھرہ میں قومی عجائب گھر میں بحالی کے کام سے منسلک ہیں نے بھی احمد ابراہیم کی بات سے اتفاق کیا اور پوسٹ میں جو کہا گیا اسے "جھوٹ" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں