سعودی عرب: نوجوان سڑک پر چائے بیچنے کے ساتھ عود بھی بجانے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شوق اور ذریعہ روزگار میں سرمایہ کاری کرنا مشکل کام ہوتا ہے۔ شوق یا تو ذریعہ روز گار پر غالب آجاتا ہے یا روزگار کے حصول کی مشکلات میں آدمی اپنے شوق پر سمجھوتہ کرلیتا ہے۔ تاہم سعودی نوجوان صقر الزہرانی ان دونوں معاملات میں خوش قسمت ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنی موسیقی کی صلاحیتوں کو بخوبی اپنے ذریعہ روزگار میں بھی استعمال کرنا شروع کردیا۔ صقر الزہرانی نے طائف شہر میں ایک چھوٹا سا سٹال لگایا اور روزی روٹی کمانا شروع کردی۔

چائے کے کپ بیچنا ان کا ذریعہ معاش ہے۔ لیکن ان کی چائے طلال مدح اور عبادی الجوہر جیسے فنکاروں کے گانے بجا کر صارفین کی خواہشات کو بھی پورا کرتی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے نوجوان نے بتایا کہ میں نے اپنا پراجیکٹ آخری بار موسم گرما میں شروع کیا تھا۔ یہ سبزیوں اور پھلوں کے لیے ایک سٹال تھا۔ پھر میں نے اپنے منافع کو جمع کیا اور اس کا ایک حصہ عود خریدنے اور موسیقی بجانے کے شوق کی مشق کرنے میں خرچ کردیا۔ اس کے بعد میں چائے بیچنے لگا اور ساتھ ہی عود بجانے کا اپنا شوق بھی پورا کرنے لگا۔

عود کو سیکھنے کے حوالے سے صقر نے بتایا میں نے ویب سائٹس کے ذریعے اپنے طور پر عود سیکھا۔ مجھے عود بجانا پسند تھا اور میں اسے بجانے کی تربیت حاصل کرتا رہا۔ میں ٹی سٹال کے پاس عود بجانے لگا تو اس جگہ کا ماحول بدل گیا۔ ایک مثبت اور خوش گوار ماحول پیدا ہوگیا۔ صارفین نے طلال مدح کے گانے بجانے کو کہا۔ اسی طرح گانے’’ عشقت اللیل‘‘ اور ام کلثوم کے گانے ’’ حب ایہ‘‘ اور گانے ’’ احبک لوتکون حاضر‘‘ کی فرمائش کی جاتی رہی۔

صقر نے بتایا کہ سٹال پر آنے والے لوگوں نے میرا کام بہت پسند کیا۔ وہ عود بجانا پسند کرتے ہیں۔ یہاں وہ وہ طائف کے خوبصورت ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میں صبح کے وقت یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں ۔پھر اپنا بوتھ کھولتا ہوں اور شام کو عود بجا کر لوگوں کو خوش کرتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں