ہماری توجہ بھی مرکوز، موسمیاتی تبدیلی پر ملکر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے 60 دن بھی جنگ جاری ہے۔ اسی جنگ کے دوران 2000 کلومیٹر دور اسرائیل کے موسمیاتی تبدیلی پر خصوصی ایلچی امارات میں ’’ کوپ 28 ‘‘ سربراہی اجلاس میں ایک دفتر میں موجود رہے۔

اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور غزہ میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے باوجود اسرائیلی سفیر گیڈون بہار کی پوری توجہ موسمیاتی تبدیلی کے نکتے پر ہے۔ وہ اس حوالے سے بتا رہے ہیں کہ کیسے اسرائیل اور اس کی جانب سے تیار آب و ہوا کی ٹیکنالوجی دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے پیرس معاہدہ کے طے شدہ اہداف کو حاصل کرنے میں دنیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ’’COP28‘‘ کے موقع پر العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً ہم اپنے آب و ہوا کے اہداف جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ’’میرا مطلب ہے کہ ہم بین الاقوامی برادری کا حصہ ہیں اور ہمیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

گیڈون بہار اسرائیل کی آب و ہوا کی خارجہ پالیسی کو دیکھتے ہیں اور ان کے پاس اقوام متحدہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں موسمیاتی اختراعات کی کافی مقدار موجود ہے ۔ وہ عالمی ممالک کے ساتھ اسرائیل کی شراکت داری کے خواہش مند ہے تاکہ اہم آب و ہوا کے کچھ انتہائی اہم مسائل کے حل کو بڑھایا جا سکے۔

ان کا خیال ہے کہ اسرائیل میں تیار کی گئی آب و ہوا کی ٹیکنالوجی عالمی حدت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مشرق وسطیٰ کے کچھ سب سے اہم مسائل سے لڑ سکتی ہے۔ ان مسائل میں پانی کی کمی، صحرا بندی ، خوراک کا عدم تحفظ اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح شامل ہیں۔ واضح رہے اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی سٹارٹ اپس میں اپنی نمایاں پیش رفت کے لیے معروف ہے۔ گیڈون بہار نے مزید کہا کہ مدد اور باہمی تعاون موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لیے سب سے اہم اقدامات ہیں۔

انہوں نے کہا ٹھوس ہائیڈرون سے لے کر نمی کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرنے تک کی اسرایل کی ایجادات کو پیمانہ کرنے کے لیے فنڈنگ اور کاروباری شراکت داروں کی ضرورت ہے-

لیکن بہار نے ان واقعات کو تسلیم کیا جو 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے منظر عام پر آئے ہیں ۔ غزہ پر اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بچے، خواتین اور مرد محصور ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ان واقعات سے اسرائیل کی شبیہ کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا جنگ کی وجہ سے جذبات بھڑک رہے ہیں۔ تاہم یہ جنگ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اسرائیل کے علاقائی تعاون کو روک نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا ایک بار جب امن بحال ہو جائے گا مجھے یقین ہے کہ ہم نہ صرف اس حوالے سے اپنی شراکت داری جاری رکھیں گے بلکہ اس میں تیزی لائیں گے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ خطے کے پاس موسمیاتی تبدیلی کے سائے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اچھے حل ہمارے پاس موجود ہیں۔ بہت سے حل اسرائیل بلکہ خطے کے دوسرے ممالک سے بھی آرہے ہیں۔ یہ بہت دلچسپ حل ہیں۔ اسرائیل خاص طور پر اپنے آب و ہوا کی ٹیکنالوجی کو ترقی دے رہا ہے۔

بہار نے کہا کہ اس وقت ملک میں 784 اسرائیلی آب و ہوا کے شعبے کے ٹیک سٹارٹ اپس ہیں جن کے ساتھ شاید دوبارہ وہی بڑی اور زیادہ جدید کمپنیاں کام کریں گی۔

گزشتہ برس اسرائیل نے اسرائیلی آب و ہوا کی ٹیکنالوجی میں 2.2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل نے 2022 میں اندرون ملک سرمایہ کاری کے ہر ڈالر کے 14 سینٹ کلائمیٹ ٹیک پر خرچ کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آب و ہوا کے بحران کے حل کی فوری ضرورت کی بنا پر اس کے ساتھ اہم مالی منافع بھی منسلک ہے۔ اس طرح موسمیاتی ٹیکنالوجی ایک تیزی سے پختہ ہونے والی ٹیکنالوجی ہے جو کامیابی فراہم کرتی ہے۔

ہائیڈروجن کنڈینسڈ پاؤڈر

اسرائیلی ایلچی نے کہا کہ اسرائیل اس حوالے سے ہائیڈروجن کنڈینسڈ پاؤڈر تیار کر رہا ہے۔ یہ گاڑھا سفید پاؤڈر شوگر کیوب کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ چینی نہیں ہے لیکن ایسا ہی لگتا ہے۔ یہ ناقابل یقین ٹھوس ہائیڈروجن ہے۔ ہائیڈروجن کی ٹھوس حالت کی بنا پر اس کی نقل و حمل آسان ہو جاتی ہے۔ ہائیڈروجن کو تیزی سے قابل تجدید توانائی اور گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے۔ ٹھوس ہائیڈروجن کرہ ارض کو فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گی۔

بہار نے کہا کہ آپ قابل تجدید توانائیوں کے ذریعے ہائیڈروجن پیدا کرتے ہیں۔ اس کی آسانی سے نقل و حمل کرتے ہیں۔ پھر اسے بھاری صنعت یا دیگر صنعت کے لیے دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔

تاہم ہائیڈروجن کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ انتہائی آتش گیر ہے۔ یہ پٹرول سے 20 گنا زیادہ دھماکہ خیز ہے ۔ فطرت میں سب سے ہلکا عنصر ہونے کے باوجود اس کی نقل و حمل مشکل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہائیڈروجن کی منتقلی کے لیے پائپ لائنوں کی ضرورت اور اس کے لیے مہنگے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

لیکن اسرائیل میں قائم الیکٹرک گلوبل ایک ٹھوس ہائیڈروجن کیریئر ہے۔ اس نے KBH4 نامی پاؤڈر فارمیٹ میں ہائیڈروجن بنائی ہے یہ غیر آتش گیر ہے۔ یہ نقل و حمل کے لیے بھی محفوظ ہے۔ اسے گرڈ سے باہر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پانی کا ماڈل اور نمی

انہوں نے بتایا کہ ایک اور حل ایک واٹر ماڈل ہے ۔ یہ اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈل ہے۔ یہ ماڈل ہوا میں سے نمی لیتا ہے اور اسے فوری طور پر پانی میں بدل دیتا ہے۔ یہ خاص طور پر جی سی سی ممالک کے لیے فائدہ مند ہو گا جو اپنی گرم اور مرطوب حالات کے لیے معروف ہیں۔ جن ملکوں کو آب و ہوا کی تبدیلی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی کی قلت اور مٹی کے کھارے پن کے سنگین حالات کا سامنا ہے۔ ان کے لیے یہ ماڈل زیادہ فائدہ مند ہے۔

انہوں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ درجہ حرارت جتنا گرم ہوتا ہے نمی کا ارتکاز اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لیے ہمارے اردگرد ہوا میں بہت زیادہ پانی ہوتا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

لیب میں اگایا ہوا گوشت

اسرائیلی ایلچی نے کہا کھانے کی درآمدات پر جی سی سی کے انحصار کو کم کرنے کے لیے ایک اور میدان میں بھی اسرائیل کام کر رہا ہے۔ یہ لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت ہے۔ اس وقت خلیجی ممالک اپنی خوراک کا 85 فیصد حصہ بیرون ملک سے درآمد کر رہے ہیں۔

لیبارٹری میں بنایا گیا گوشت بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اسی لیے ہم لیبارٹری میں تیار گوشت یا متبادل پر مبنی پروٹین کی فراہمی کو بڑھانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ آج تقریباً ہر قسم کی خوراک لیبارٹری میں تیار کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیبارٹری میں تیار گوشت کے حوالے سے اسرائیل امریکہ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ خطے میں غذائی عدم تحفظ کو دور کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔

تاہم اس طرح کی اختراعات اور ایجادات کے قابل اطلاق ہونے کے لیے شراکت داروں کی ضرورت ہے۔ ایسے سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے جو اس شعبہ کو پروان چڑھا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں