افسانوی کردار کی قبر کو قدیم ترین کیوں کہا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"یہ دنیا کا سب سے قدیم دریافت شدہ مقبرہ ہے" اس جملے کو لے کر مصری حلقوں میں بڑے پیمانے پر بحث چھڑی رہی۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے مصر میں دریافت ہونے والی دنیا کی قدیم ترین قبر کے بارے میں پوسٹس پھیلائیں۔ جس قبر کے متعلق قدیم ترین ہونے کا دعویٰ کیا گیا وہ ’’اوسیرس‘‘ کی قبر ہے۔

فیس بک پر سینکڑوں افراد نے پوسٹ پر رد عمل کا اظہار کیا اور کہا قدیم مصری دیوتا ’’اوسیرس‘‘ کی قبر تاریخ کا قدیم ترین مقبرہ ہے۔ یہ قبر ’’ اوسیرس‘‘ مندر میں ہے۔ اس مقبرہ پر زندگی اور موت کے پیغامات والی خفیہ تحریریں مزین ہیں۔

مصریوں کے اس گفتگو میں مشغول ہونے کے بعد ماہر آثار قدیمہ احمد ابراہیم نے اس پوسٹ میں بیان کردہ باتوں کی تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ اوسیرس کے مندر میں اوسیرس دیوتا کی کوئی قبر نہیں ہے کیونکہ اوسیرس اصل میں ایک افسانوی شخصیت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شاید اسی وجہ سے مندر کے اندر ان کے مقبرے کی موجودگی کے بارے میں افواہیں پھیل رہی ہیں۔ یہ پوسٹ مصری تاریخ کے بارے میں فرضی کہانیاں ایجاد کرنے اور انہیں رنگین تصویروں کے ساتھ پرکشش انداز میں جمع کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

یاد رہے افسانہ ’’ الیجنڈ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ دیوتا کے بھائی نے اس سے دشمنی کی اور اسے قتل کر دیا۔ اس کے جسم کے 42 ٹکڑے کر دیے اور تقسیم کر دیے لیکن اس کی بیوی آئسس نے ان ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑ کر اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔

لیجنڈ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے بعد آئسس اور اوسیرس نے اپنے بیٹے ہورس کو جنم دیا۔ وہ اپنے باپ کا تخت دوبارہ حاصل کرنے اور اپنے چچا سے بدلہ لینے میں کامیاب ہوگیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں