مشرق وسطیٰ

اسرائیل مسلسل انتباہ کے باوجود حماس کا حملہ روکنے میں کیوں ناکام رہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اکتوبر 1973 میں مصر کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد کی جانب سے اسرائیل پر اچانک یلغار نے ایک بار تو اس ملک کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔

اس وقت امریکہ نے ہتھیاروں اور دیگر چیزوں میں اسرائیل کی مدد کی تھی جس کے بعد وہ ’یوم کپور جنگ‘ سے بھاری نقصان کے بعد نکل پایا تھا۔

عرب نیوز کی حالیہ اشاعت میں شائع ہونے والی جوناتھن گورنال کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران 2600 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

برطانیہ میں مقیم اسرائیلی مؤرخ، مصنف اور ماہر سیاسیات اہرون بریگمین کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت بڑی انٹیلی جنس کی ناکامی‘ تھی۔

سوشل میڈیا فوٹو
سوشل میڈیا فوٹو

اس کے بعد ’گہرے اجتماعی صدمے‘ سے دوچار معاشرے میں اسرائیلی سیاست دانوں، فوج اور انٹیلی جنس کے محکموں کو سخت سوالات کا سامنا رہا۔

اس واقعے کے ٹھیک 50 برس بعد سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل ایک بار پھر ایک اچانک حملے کی زد میں آ گیا۔ اب کی بار حماس نے کم از کم 12 سو اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو ہلاک اور لگ بھگ 250 افراد کو غزہ میں لے جا کر یرغمال بنا لیا۔

اس تازہ حملے کے بعد سے اسرائیل میں داخلی تقسیم، بدحواسی اور حکومت کی ناکامی پر شدید غصہ دکھائی دے رہا ہے۔ اب ایک بار پھر وہاں سخت سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس مرتبہ غلط کیا ہوا اور اس کا الزام کسے دیا جائے؟

اسرائیلی مؤرخ، مصنف اور ماہر سیاسات اہرون بریگمین کا کہنا ہے کہ ’یوم کپور کی طرح اس مرتبہ بھی اسرائیلیوں کے سامنے تمام معلومات تھیں۔۔۔ سب کچھ اور ہر طرح کی تفصیلات۔‘

انہوں نے کہا ’یہ اسرائیل کی انٹیلی جنس کی دوسری بڑی ناکامی تھی۔‘

اہرون بریگمین کے مطابق ’مستقبل میں پرل ہاربر، آپریشن بارباروسا (1941 میں جرمنی کا روس پر اچانک حملہ) اور یوم کپور جنگ کے ساتھ ساتھ ملٹری سکولوں میں سات اکتوبر کا حماس کا حملہ بھی پڑھایا جائے گا-‘

اس حملے کے بعد امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک خبر میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام کو حماس کے حملے کے منصوبے کے بارے میں سات اکتوبر سے ’لگ بھگ ایک برس پہلے‘ ہی معلومات تھیں ’لیکن اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس حکام نے اسے ناقابلِ عمل سمجھ کر مسترد کر دیا تھا۔‘

نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ حماس نے ’حیرت انگیز درستی کے ساتھ اپنے منصوبے پر عمل کیا اور یہ واقعہ اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ میں انٹیلی جنس کی بدترین غلطیوں میں سے ایک میں تبدیل ہو گیا۔‘

اب یہ شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں کہ حماس کے حملے سے قبل کے مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان ’آہنی دیوار‘ کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی فوج کے ذمہ داروں کی طرف سے بھی وارننگز کو مسلسل نظرانداز یا مسترد کر دیا گیا تھا۔

اسی دوران سرحدی باڑ کے ساتھ نصب کیمروں سے ملنے والی ویڈیو فیڈز کے نظام کو 2021 میں ایک ارب ڈالر خرچ کر کے اَپ گریڈ کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے کامبیٹ انٹیلی جنس کلیکشن کور کے ارکان وہاں دن رات نگرانی کرتے ہیں۔

پھر یہ سرحدی دیوار بھی بہت مضبوط دکھائی دیتی تھی اور اس کے اوپر ایک چھ میٹر اونچی باڑ، باڑ کے اوپری سِرے پر تیز بلیڈز تھے۔ اس دیوار کی بنیادوں میں سرنگوں کو ناکام بنانے کے لیے گہرائی تک کنکریٹ بھری گئی تھی۔

اس کے علاوہ یہ دیوار نگرانی کے جدید ترین سسٹم اور وقفوں وقفوں سے لگے کھمبوں پر نصب ریموٹ کنٹرول مشین گنوں سے بھری ہوئی ہے۔

اسرائیلی یرغمالی
اسرائیلی یرغمالی

لیکن سات اکتوبر کو اس مضبوط ترین دیوار کو معمولی ٹیکنالوجی والے بلڈوزر، دھماکہ خیز مواد اور ان ڈرونز کے مجموعے سے شکست دی گئی جو عین مشین گن کے اوپر بم گراتے تھے۔

اسرائیلی مصنف اور ماہر سیاسیات اہرون بریگمین کے مطابق اسرائیل کی ناکامی کے اسباب میں فوج کی ساخت سے جڑے ہوئے پہلو بھی ہیں۔

یوسی میکلبرگ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اور برطانیہ میں قائم بین الاقوامی امور کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس میں ایم ای این اے پروگرام سے منسلک ہیں۔ انہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد سات اکتوبر کی تباہی کا پورا حساب کتاب ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’افواہیں اور لِیک ہونے والی چیزیں ہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ یہ سسٹم کی ناکامی تھی لیکن جب تک ہم تحقیقات میں حلف کے تحت شواہد نہیں سن لیتے، اس وقت تک یہ جاننا مشکل ہے کہ واقعی کیا ہوا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں